سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(96) زیب و زینت کے ساتھ ٹیلی ویژن کی سکرین پر

  • 9536
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-21
  • مشاہدات : 656

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ان عورتوں کو دیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے جو بن ٹھن کی ٹیلی ویژن کی سکرین پر نمودار ہوتی ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عریاں یا نیم عریاں بے پردہ عورتوں کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے، اسی طرح ان مردوں کی طرف دیکھنا بھی جائز نہیں ہے جنہوں نے اپنی رانیں ننگی کی ہوئی ہوں، ایسے مردوں اور عورتوں کو ٹیلی ویژن ، ویڈیو، سینما یا کسی اور بھی جگہ دیکھنا جائز نہیں ہے بلکہ آنکھیں جھکانا اور ایسے مردوں عورتوں کی طرف دیکھنے سے اعراض کرنا واجب ہے کیونکہ یہ فتنہ ، دلوں کی خرابی اور ہدایت سے انحراف کا سبب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے:

﴿قُل لِلمُؤمِنينَ يَغُضّوا مِن أَبصـٰرِ‌هِم وَيَحفَظوا فُر‌وجَهُم ۚ ذ‌ٰلِكَ أَزكىٰ لَهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ‌ بِما يَصنَعونَ ﴿٣٠ وَقُل لِلمُؤمِنـٰتِ يَغضُضنَ مِن أَبصـٰرِ‌هِنَّ وَيَحفَظنَ فُر‌وجَهُنَّ...﴿٣١﴾... سورة النور

’’ اے نبیﷺ! مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ  اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے (اور) جو کام یہ کرتے ہیں، اللہ ان سے خبردار ہے اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔‘‘

اور حدیث میں حضرت محمدﷺ کا یہ فرمان موجود ہے:

((النظرة سهم من سهام إبليس )) المستدرك)

’’ نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔‘‘

نظر کا خطرہ بہت عظیم ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہیے، انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس سے بچائے اور ٹیلی ویژن کے صرف ایسے پروگرام دیکھے  جن میں مصلحت ہو مثلاً دینی، علمی یا فنی پروگرام ، باقی رہیں حرام اشیاء تو انہیں دیکھنا جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص83

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ