سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(72) میراث مطلقہ

  • 9512
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-21
  • مشاہدات : 1163

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا وہ مطلقہ عورت جس کا شوہر اچانک فوت ہو جائے اور وہ ابھی تک عدت میں ہو یا عدت پوری ہو گئی ہو، اپنے شوہر کی وارث ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وہ مطلقہ  عورت جس کا شوہر فوت ہو جائے اور وہ ابھی تک عدت میں ہو توطلاق یا رجعی ہو گی یا غیر رجعی اگر طلاق رجعی ہو تو یہ عورت بیوی کے حکم میں ہو گی اور اس کی عدت طلاق کی عدت کے بجائے وفات کی عدت میں منتقل ہو جائے گی، طلاق رجعی یہ ہے کہ مدخولہ عورت کو معاوضہ کے بغیر طلاق دی گئی اور طلاق پہلی یا دوسری ہو اگر ایسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو یہ اس کی وارث ہو گی کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالمُطَلَّقـٰتُ يَتَرَ‌بَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلـٰثَةَ قُر‌وءٍ ۚ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكتُمنَ ما خَلَقَ اللَّهُ فى أَر‌حامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤمِنَّ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ‌ ۚ وَبُعولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَ‌دِّهِنَّ فى ذ‌ٰلِكَ إِن أَر‌ادوا إِصلـٰحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثلُ الَّذى عَلَيهِنَّ بِالمَعر‌وفِ...﴿٢٢٨﴾... سورة البقرة

’’ اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اگر وہ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کو جائز نہیں کہ اللہ نے جو کچھ ان کے رحم میں پیدا کیا ہے اسے چھپائیں اور ان کے خاوند اگر پھر موافقت چاہیں تو اس (مدت) میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حق دار ہیں اور عورتوں کا حق(مردوں) پر ویسا ہی ہے جیسا دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَطَلِّقوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحصُوا العِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَ‌بَّكُم ۖ لا تُخرِ‌جوهُنَّ مِن بُيوتِهِنَّ وَلا يَخرُ‌جنَ إِلّا أَن يَأتينَ بِفـٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلكَ حُدودُ اللَّهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدودَ اللَّهِ فَقَد ظَلَمَ نَفسَهُ ۚ لا تَدر‌ى لَعَلَّ اللَّهَ يُحدِثُ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ أَمرً‌ا ﴿١﴾... سورة الطلاق

’’ اے پیغمبرﷺ(مسلمانوں سے کہہ دیجیئے کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا حساب نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ کھلی بے حیائی کریں( تو نکال دینا چاہیے) یہ اللہ کی حدیں ہیں جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا یقیناً وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا(اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی(رجعت) کی سبیل پیدا کردے۔‘‘

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مطلقہ عورت کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ عدت کے دوران اپنے شوہر ہی کے گھر میں رہے کیونکہ:

﴿ لا تَدر‌ى لَعَلَّ اللَّهَ يُحدِثُ بَعدَ ذ‌ٰلِكَ أَمرً‌ا ﴿١﴾... سورة الطلاق

’’ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی(رجعت) کی نئی راہ پیدا کر دے۔‘‘

اس سے رجوع مراد ہے اور وہ عورت جس کا شوہر اچانک فوت ہو جائے اگر اس کی طلاق بائنہ مثلاً تیسری طلاق ہے یا اس نے شوہر کو معاوضہ دیا ہے کہ وہ اسے طلاق دے دے یا وہ عدت فسخ میں ہے، عدت طلاق میں نہیں تو یہ عورت وارث نہیں ہو گی اور نہ اس کی عدت طلاق سے وفات کی طرف منتقل ہو گی ہاں البتہ ایک صورت ہے جس میں مطلقہ بائنہ بھی وارث بن سکتی ہے اور وہ یہ کہ مثلاً شوہر اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دے اور اس پر الزم ہو کہ اس نے بیوی کو میراث سے محروم کرنے کے لئے طلاق دی ہے تو اس صورت میں وہ وارث ہو گی خواہ اس کی عدت ختم بھی ہو گئی ہو بشرطیکہ اس نے شادی نہ کی ہو اور اگر شادی کر لی تو پھر اسے وراثت نہیں ملے گی۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص68

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ