سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(50) وصیت کے مطابق عمل واجب ہے

  • 9490
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-20
  • مشاہدات : 591

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے یہ وصیت کی کہ اس کے ایک گھر کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اس کی طرف سے ہر سال قربانی اور حج کے لئے خرچ کیا جائے، اگر ہر سال یہ ممکن نہ ہو تو ایک سال چھوڑ کر ایسا کیا جائے اور اگر یہ مال قربانی و حج کے اخراجات سے زائد ہو تو پھر دیگر نیکی کے کاموں میں خرچ کردیا جائے، کیا وصیت کے مطابق حج کرنا ضروری ہے، اس طرح حج کرنے والے لوگ تو بہت ہیں لیکن دل مطمئن نہیں ہوتا کہ وہ محض مادی فائدہ کے لئے حج کرتے ہیں تو اس صورت میں کیا یہ افضل نہیں ہے کہ حج کے بجائے اس مال کو دیگر نیکی کے کاموں میں مثلاً مسجدوں کے بنانے وغیرہ میں خرچ کر دیا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واجب یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کی وصیت پر عمل کیا جائے کیونکہ حج بھی تقرب الٰہی کے حصول کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے، وکیل کو چاہیے کہ وہ کسی ایسے شخص کو حج پر بھیجے جس کے ظاہری حالات سے خیر و صلاح اور حج کی رغبت معلوم ہوتی ہو اور بظاہر وہ حصول مال ہی کیلئے حج نہ کرنا چاہتا ہو، باقی دلوں کے بھید اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں اور وہی ان کے مطابق بدلہ بھی دیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص52

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ