سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(47) وصیت کی مقدار اور وقت

  • 9487
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-20
  • مشاہدات : 609

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وصیت کس وقت کی جائے؟ کیا شریعت نے وصیت کے لئے مال کی کوئی حد مقرر کی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وصیت ہمیشہ کی جا سکتی ہے ، جبکہ انسان کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں وہ وصیت کرنا چاہتا ہو، وصیت کرنے میں جلدی کرنی چاہیے کیونکہ رسولﷺ نے فرمایا:

’’ ما حق امرىء مسلم ، له شئء يريد أن يوصي فيه ، يبيت ليلتين، إلا ووصيته مكتوبة عنده‘‘ ( صحيح البخاري)

 ’’مسلمان آدمی جس چیز کے بارے میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دو راتیں بھی ایسی بسر کرے کہ وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔‘‘

امام بخاری اور امام مسلم ؒ نے اپنی اپنی ’’صحیح‘‘ میں اس حدیث کو بیان کیا ہے۔ اس سے معلوم  ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس اگر کوئی ایسی چیز ہو جس کے بارے میں وصیت کرنا ضروری ہو تو اسے جلدی کرنی چاہیے، وصیت زیادہ سے زیادہ اپنے مال کے ایک تہائی حصے میں کی جا سکتی  ہے اور اگر چوتھے یا پنچویں یا اس سے کم حصے میں کر دی جائے تو پھر بھی کوئی حرج نہیں لیکن زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ تک میں وصیت کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت سعدؓ سے مروی حدیث میں ہے:

’’ الثلث والثلث كثير‘‘ ( صحيح البخاري)

’’ تیسرے حصے کی وصیت کرو اور تیسرا حصہ بھی بہت ہے۔‘‘

حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ اگر لوگ تیسرے کی بجائے چوتھے حصے کی وصیت کریں تو یہ زیادہ اچھا ہے ۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ’’تیسرے حصے کی وصیت کرو اور تیسرا حصہ بھی بہت ہے۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے پانچویں حصہ میں وصیت فرمائی تھی۔

لہٰذا تیسرے حصے کی بجائے چوتھے یا پانچویں حصے کی وصیت کرنا افضل ہے خصوصاً جبکہ مال بھی زیادہ ہو اور اگر ایک تہائی تک میں وصیت کر دے تو کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص50

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ