سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(43) بہن کا ہبہ

  • 9483
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-19
  • مشاہدات : 494

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے والد صاحب کا مدت ہوئی انتقال ہو گیا  تھا، ہمارے پاس ان کا ایک مکان ہے جسے ہم اب فروخت کر کے وارثوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، میری ایک بہن اپنے حصے سے میرے حق میں دستبردار ہو کر شادی کے لئے میری مدد کرنا چاہتی ہے، یہ بہن خود شادی شدہ اور مالی طور پر خوش حال ہے، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ رہنمائی فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرمائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شادی میں مدد دینے کے لئے بہن اپنا حصہ آپ کو ہبہ کرنا چاہتی ہے تو وہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بہن سلیم العقل ہو کیونکہ کتاب و سنت کے ادلہ شرعیہ سے ثابت ہے کہ عورت کے لئے اپنا مال اپنے رشتے داروں اور غیر رشتہ داروں کو بطور عطیہ دینا جائز ہے جیسا کہ سلیم العقل ہونے کی صورت میں اسے کے لئے صدقہ کرنا بھی جائز ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص46

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ