سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(29) مردہ مسلمان کی حرمت زندہ ہی کی طرح ہے

  • 9470
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-19
  • مشاہدات : 456

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص نے اپنی زرعی زمین میں گھر بناتا یا اسے توسیع دینا یا کوئی اور عمارت تعمیر کرنا چاہا تو اسے اس میں ایک، دو ، تین یا اس سے بھی زیادہ قبریں نظر آئیں تو وہ اب کیا کرے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے اپنی زرعی زمین میں گھر بناتا یا اسے توسیع دینا یا کوئی اور عمارت تعمیر کرنا چاہا تو اسے اس میں ایک، دو ، تین یا اس سے بھی زیادہ قبریں نظر آئیں تو وہ اب کیا کرے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دراصل یہ لوگ ایک بے آباد زمین میں دفن کئے گئے تھے لیکن اب یہاں مدفون ہونے کی وجہ سے وہ اس کے مالک بن گئے ہیں لہٰذا ان سے تعرض جائز نہیں، نہ ان کی قبروں کو اکھاڑا جا سکتا ہے، نہ راستہ بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان سے کوئی ایسا معاملہ کیا جا سکتا ہے جس سے ان کی بے حرمتی ہو بلکہ ان کے گرد ایک چار دیواری بنا دینی چاہیے جس کی وجہ سے یہ بے حرمتی سے محفوظ رہیں اور ان میں مدفون انسانوں کی عزت و حرمت برقرار رہے کیونکہ مردہ مسلمانوں کی بھی اسی طرح حرمت ہے جس طرح زندہ مسلمانوں کی حرمت ہوتی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص40

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ