سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(9) حدیث (يا نبي الله! أحب أن أكون أعلم الناس، قال: اتق الله تكن أعلم الناس) کی استنادی حیثیت

  • 9445
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-18
  • مشاہدات : 850

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
درج ذیل روایت کی استنادی کے بارے میں راہنمائی فرمائیں، کیا یہ صحیح روایت ہے۔
س: امیر (غنی) بننا چاہتا ہوں ۔ کیا کروں ؟
ج : قناعت اختیار کرو، امیر ہوجاؤ گے
س: میں بڑا عالم بننا چاہتا ہوں ؟
ج :تقویٰ اختیار کرو، عالم بن جائو گے۔
س: عزت والا بننا چاہتا ہوں ؟
ج :مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کردو ۔
س: اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں ؟
ج :لوگوں کو نفع پہنچانے والے بن جاؤ۔(مسند امام احمد)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

درج ذیل روایت کی استنادی کے بارے میں راہنمائی فرمائیں، کیا یہ صحیح روایت ہے۔

س: امیر (غنی) بننا چاہتا ہوں ۔ کیا کروں ؟

ج : قناعت اختیار کرو، امیر ہوجاؤ گے

س: میں بڑا عالم بننا چاہتا ہوں ؟

ج :تقویٰ اختیار کرو، عالم بن جائو گے۔

س: عزت والا بننا چاہتا ہوں ؟

ج :مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کردو ۔

س: اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں ؟

ج :لوگوں کو نفع پہنچانے والے بن جاؤ۔(مسند امام احمد)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ روایت مسند احمد میں موجود ہی نہیں ہے ،بلکہ ایک دوسری کتاب کنز العمال (نمبر:44154)میں موجود ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے ،اسے وہاں بلا سند ہی بیان کیا گیا ہے۔وہاں یہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔:

قال الشيخ جلال الدين السيوطي رحمه الله تعالى: وجدت بخط الشيخ شمس الدين بن القماح في مجموع له عن أبي العباس المستغفري قال: قصدت مصر أريد طلب العلم من الإمام أبي حامد المصري والتمست منه حديث خالد بن الوليد فأمرني بصوم سنة، ثم عاودته في ذلك فأخبرني باسناده عن مشايخه إلى خالد بن الوليد قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني سائلك عما في الدنيا والآخرة، فقال له: سل عما بدا لك، قال: يا نبي الله! أحب أن أكون۔

چو نکہ یہ روایت بلا سند ہی بیان کی گئی ہے لہذا اسے حجت سمجھنا درست نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ