سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(5) کوتاہی کے بغیر امانت میں نقصان کی ذمہ داری نہیں

  • 9441
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-18
  • مشاہدات : 509

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی کہتا ہے کہ میں ایک ملک میں گیا وہاں مجھے ایک بھائی نے کچھ رقم دی تاکہ اس کی سفر سے واپسی تک وہ رقم میں اپنے پاس بطور امانت محفوظ رکھوں حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ رقم ہوائی اڈے پر پکڑی گئی تو مجھ سے ضبط کر لی جائے گی کیونکہ اس ملک نے باہر رقم لے جانے کے لئے جو مقدار مقرر کر رکھی ہے وہ اس سے زیادہ تھی۔ چنانچہ اسی طرح ہوا کہ ہوائی اڈے پر وہ رقم مجھ سے ضبط کر لی گئی علاوہ ازیں میرے پاس جو اپنی رقم تھی وہ بھی نکلوا لی گئی تو اس رقم کے واپس کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کہتا ہے کہ میں ایک ملک میں گیا وہاں مجھے ایک بھائی نے کچھ رقم دی تاکہ اس کی سفر سے واپسی تک وہ رقم میں اپنے پاس بطور امانت محفوظ رکھوں حالانکہ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ رقم ہوائی اڈے پر پکڑی گئی تو مجھ سے ضبط کر لی جائے گی کیونکہ اس ملک نے باہر رقم لے جانے کے لئے جو مقدار مقرر کر رکھی ہے وہ اس سے زیادہ تھی۔ چنانچہ اسی طرح ہوا کہ ہوائی اڈے پر وہ رقم مجھ سے ضبط کر لی گئی علاوہ ازیں میرے پاس جو اپنی رقم تھی وہ بھی نکلوا لی گئی تو اس رقم کے واپس کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس کے پاس امانت رکھی جائے وہ امین ہے اگر اس کی کوتاہی کے بغیر امانت ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان نہیں لہٰذا اگر امر واقع اسی طرح ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے تو آپ کے ذمے اس کی رقم کے عوض اسے رقم لوٹانا واجب نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص27

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ