سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(77) غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے

  • 940
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-03
  • مشاہدات : 977

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کعبہ کی قسم کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ شرف اور ذمے کے بارے میں قسم کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور انسان کے یہ کہنے کے بارے میں کیا حکم ہے کہ یہ میرے ذمے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانا جائز نہیں ہے بلکہ یہ شرک کی ایک قسم ہے۔ اسی طرح کعبہ کی قسم کھانا بھی جائز نہیں بلکہ یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کعبہ دونوں مخلوق ہیں اور کسی بھی مخلوق کی قسم کھانا شرک ہے۔ اسی طرح شرف یا ذمے کی قسم کھانا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللّٰهِ فَقَدْ کَفَرَ اَوْ اَشْرَك»(جامع الترمذي، النذور والایمان، باب ماجاء فی ان من حلف بغیر الله فقد اشرك، ح:۱۵۳۵)

’’جس کسی نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر یا شرک کیا۔‘‘

اور فرمایا:

«لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ َمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّه أو ليصمتِ»(صحیح البخاري، کتاب الأدب،باب من لم یر اکفارمن قال ذلك متأؤلاأوجاھلا(۶۱۰۸) ومسلم،کتاب الأیمان،باب النھي عن الحلف بغیر اللہ تعالیٰ(۱۶۴۶)۔

’’تم اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ، جس کوواقعی میں قسم کھانی ہو اسے اللہ ہی کی قسم کھانی چاہیے۔‘‘

لیکن یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ انسان کا یہ کہنا: ’’یہ بات میرے ذمے ہے۔‘‘ اس سے ذمے کے ساتھ حلف اور قسم مراد نہیں ہوتی، بلکہ اس سے عہد مراد ہوتا ہے، یعنی اس بات کے بارے میں میرا عہد ہے اور یہ میری ذمہ داری ہے (کہ میں اسے پورا کروں گا) اور اگر اس سے واقعی قسم مراد ہو تو پھر یہ بھی غیر اللہ کی قسم ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگی، لیکن مجھے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے لوگوں کا ارادہ قسم کا نہیں ہوتا بلکہ ان کا ذمے سے ارادہ عہد کا ہوتا ہے اور ذمے کا لفظ عہد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

 

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ151

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ