سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ادراج کرنےے ک والی حدیث کا حکم

  • 94
  • تاریخ اشاعت : 2011-10-17
  • مشاہدات : 1027

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امام بخاری کی کتاب التاریخ الکبیر میں صحیح سند کے ساتھ امام ربیعہ بن عبدالرحمنؒ کا قول منقول ہے کہ امام زہریؒ حدیث میں اِدراج کیا کرتے تھے۔ سوال ہے کہ کیا اِدراج کرنے والے کی حدیث صحیح ہوتی ہے؟ اگر ہاں، تو کیا اس کی حدیث پرکہاں تک عمل کیا جائے؟۔ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

راقم کے خیال میں امام زہری رحمہ اللہ کی طرف جس ادراج کی نسبت ثابت ہے، وہ جواز کے درجے میں داخل ہے ۔یعنی حدیث کے غریب الفاظ کی شرح کرنا۔

پس یہ بات تو صحیح ہے کہ کسی حدیث کے متن میں اپنی طرف سے جان بوجھ کر کچھ اضافہ کر دینا حرام ہے لیکن ادراج کی ایک قسم وہ بھی ہے جو کہ جائز ہے' اور وہ یہ کہ کوئی راوی احادیث کے غریب الفاظ کی تشریح میں کچھ الفاظ اس طرح بیان کرے کہ وہ حدیث کا حصہ معلوم ہوں ۔ امام زہری کے ادراج کی نوعیت بھی یہی ہے' جیساکہ اما م سیوطی کی درج ذیل عبارت سے واضح ہو رہا ہے۔ امام سیوطی لکھتے ہیں :

و عندی ما أدرج لتفسیر غریب لا یمنع ولذلک فعلہ الزھری و غیر واحد من الأئمة

''اور میرے نزدیک کسی غریب لفظ کی تشریح کے لیے جو ادراج کیا جائے  وہ ممنوع نہیں ،اس کے پیش نظر  امام زہری اور دوسرے ائمۂ حدیث نے  ادراج کی اس صورت کو استعمال کیا ہے(تدریب الراوی : جلد١' ص٢٣١)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ