السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرا ایک چچا زاد بھائی ایک بینک میں کلرک کے طورع پر کام کرتا ہے۔ اسے بعض علماء نے فتویٰ دیا ہے کہ وہ یہ کام نہ کرے اور اسے چھوڑ کر کوئی اور ملازمت تلاش کرے۔ آپ رہنمائی فرمائیں، کیا اس کے لیے بینک میں کام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیرا
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جنہوں نے مذکورہ فتویٰ دیا ہے انہوں نے بہت اچھا فتویٰ دیا ہے کیونکہ سودی بینکوں میں کام کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ گناہ اور ظلم کی باتوں میں تعاون ہے اور اراد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدوٰنِ...٢﴾.... سورة المائدة
"اور نیکی اور پیرہیز گاری کے کاموں میں تم ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔"
اور صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے، لکھنے والے اور دونوں گواہی دینے والوں پر لعنت کی اور فرمایا:
(هم سواء) (صحيح مسلم‘ المساقاة‘ باب لعن آكل الربا ومؤكله‘ ح: 1598)
"یہ سب گناہ میں برابر ہیں۔"
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب