السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک بینک نے سٹوڈنٹس فنڈر کے ذمہ داروں کو یہ پیشکش کی ہے کہ وہ ان فنڈز کی حفاظت اور ان میں تعاون کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ ان فنڈز کو اپنے کاروبار میں استعمال کرے گا، تو کیا ان فنڈز کو بینک میں جمع کرانا جائز ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ کام جائز نہیں ہے کیونکہ یہ عین ربا ہے، اس لیے کہ بینک ان فنڈز کو استعمال کرے گا اور ان پر طے شدہ سود ادا کرے گا۔ بینک نے دجل و تلبیس، دھوکا اور سود پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کا نام تعاون رکھا ہے اور سود تو بہرحال سود ہے خواہ لوگ اس کا کوئی بھی نام رکھ لیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب