سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سورہ حشر کی آخری تین آیات کی فضیلت والی حدیث کی تحقیق

  • 9377
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-14
  • مشاہدات : 2243

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سب سے پہلے تو میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے پہلے بھی ایک سوال کا جواب دیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھنے والے کو اگر موت آجائے تو کیا شہادت کا مقام ملتا ہے؟کیونکہ ہم یہی سنتے رہے ہیں ،اور علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید نے بھی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر کوئی فجر کی نماز کے بعد سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھ کر سو جائے اور عشاء سے پہلے موت آ جائے تو شہادت کا مقام ملے گا اور اسی طرح عشاء کے وقت سے صبح تک بھی اسی طرح ہی ہو گا اگر عشاء کے وقت بھی آخری تین آیات پڑھ لی جائیں۔امید ہے کہ آپ تفصیل سے جواب دیں گے۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سب سے پہلے تو میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے پہلے بھی ایک سوال کا جواب دیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھنے والے کو اگر موت آجائے تو کیا شہادت کا مقام ملتا ہے؟کیونکہ ہم یہی سنتے رہے ہیں ،اور علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید نے بھی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر کوئی فجر کی نماز کے بعد سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھ کر سو جائے اور عشاء سے پہلے موت آ جائے تو شہادت کا مقام ملے گا اور اسی طرح عشاء کے وقت سے صبح تک بھی اسی طرح ہی ہو گا اگر عشاء کے وقت بھی آخری تین آیات پڑھ لی جائیں۔امید ہے کہ آپ تفصیل سے جواب دیں گے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث مبارکہ ترمذی(2922) اور مسند احمد(19795) میں درج ذیل الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔:

عن معقل بن يسار عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قال حين يصبح ثلاث مرات: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، وقرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر، وكل الله به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي، وإن مات في ذلك اليوم مات شهيداً، ومن قالها حين يمسي كان بتلك المنزلة. قال أبو عيسى: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه. وهذا إعلال منه للحديث،
وقد ضعف النووي سنده وضعفه الألباني وشعيب الأرنؤوط.

لیکن امام نووی،امام البانی اور امام شعیب الارنووط نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔اس میں خالد بن طھمان نام کا ایک راوی ضعیف ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ