سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(55) بچوں کے فوت ہونے کے بعد ان کا انجام

  • 937
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-03
  • مشاہدات : 1272

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مومنوں اور مشرکوں کے فوت ہو جانے والے چھوٹے بچوں کا کیا انجام ہوگا؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مومنوں اور مشرکوں کے فوت ہو جانے والے چھوٹے بچوں کا کیا انجام ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

مومنوں کے چھوٹے بچے جنت میں جائیں گے کیونکہ وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلۡحَقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَآ أَلَتۡنَٰهُم مِّنۡ عَمَلِهِم مِّن شَيۡءٖۚ كُلُّ ٱمۡرِيِٕۢ بِمَا كَسَبَ رَهِينٞ﴾--الطور:21

’’اور جو کچھ لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو بھی (جنت میں) ان کے درجے تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے عوض، جو اس نے کمائے ہیں، گروی ہے۔‘‘

جہاں تک مومنوں کے سوا دیگر لوگوں کے بچوں کا تعلق ہے، یعنی ان بچوں کا جو غیر مسلم والدین سے پیدا ہوئے ہوں، تو ان کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے جس کی بنیادپر ہم تنا کہہ سکتے ہیں: ’’ ان کے بارے میںاللہ تعالیٰ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ انہیں کس طرح کے عمل کرنے تھے۔‘‘ دنیا کے احکام کے اعتبار سے تو وہ اپنے باپوں ہی کی طرح ہیں اور آخرت کے احکام کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ انہیں کس طرح کے اعمال کرنے تھے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا ہے۔صحیح البخاری ، الجنائز ، باب ما قیل فی الاولاد المشرکین، حدیث: ۱۳۸۴۔

اس بنیادپرہم ان کے بارے میں یہ کہیں گے کہ ان کے انجام کو اللہ ہی جانتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے آخرت کے معاملے کا ہم سے کوئی زیادہ تعلق  نہیں، البتہ دنیا کے احکام کے اعتبار سے ہمارا ان سے تعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ احکام دنیا کے اعتبار سے ان کے لیے بھی وہی حکم ہے جو مشرکین کے لیے ہے کہ مرنے کے بعد انہیں غسل دیا جائے گا نہ کفن دیا جائے گا اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل صفحہ 112

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ