سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
کیا یہ ربا ہے؟
  • 9340
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 903

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے دوسرے کے چاول کی بوریان ایک مدت کے ادھار پر بیچیں تو مشتری نے انہیں بائع سے لے کر اپنے قبضہ میں لے لیااور دلال انہیں بازار میں لے گیا تو دلال سے ایک اور آدمی نے انہیں خرید لیا اور کہا کہ انہیں قبضہ میں لے لو لیکن گاہک نے انہیں موجود نہ پایا تو بائع اول نے کہا کہ میں وکیل ہوں، میں انہیں دلال سے لے کر اپنے قبضہ میں لے لوں گا، یہ بات سن کا حاضرین پکار اٹھے کہ یہ تو سود ہے سود! اس مسئلہ میں فتویٰ دیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کو اجروثواب سے نوازے!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس شخص نے دلال سے چاول خریدے ہیں اگر اس نے یہ اپنے لیے خریدے ہیں، اس کے ارو بائع اول کے درمیان یہ منصوبہ بندی بھی نہیں ہے کہ وہ اس کے لیے خریدے اور وہ اس کے پاس کام بھی نہیں کرتا اور بائع اول کا چاول کی بوریوں کو اپنے قبضہ میں لینا دلال سے مشتری کے لیے بطریق وکالہ ہے تو بیع صحیح ہے اور اس میں ربا نہیں ہے اور اگر بائع اول اور دلال سے چاول کی بوریاں خریدنے والے کے درمیان پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی ہے کہ وہ اس سے خریدے تاکہ یہ بوریاں پھر سے بائع اول کے پاس آ جائیں تو یہ ربا ہے اور بیع صحیح نہیں ہے اور یہ دھوکا ہے جو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اور نہ اس سے حرام حلال ہو گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

تبصرے