السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے ایک گاڑی خریدی تو اس میں معمولی سا نقص پایا جس کی وجہ سے میں نے اسے بیچ دیا لیکن خریدار کو اس کے بارے میں نہ بتایا تو کیا یہ بھی دھوکا یا نہیں؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہاں یہ بھی دھوکا ہے اور دھوکا حرام ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
(من غشنا فليس منا) (صحيح مسلم‘ الايمان‘ باب قول النبي صلي الله عليه وسلم من غشنا فليس منا‘ ح: 101)
"جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
لہذا اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کریں اور جلدی سے مشتری کو بھی یہ بتا دیں کہ گاڑی میں یہ نقص ہے تاکہ آپ بری الذمہ ہو جائیں۔ اگر وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائے تو الحمدللہ! ورنہ اس خرابی کے عوض اسے معاوضہ دینے پر اتفاق کر لیں یا اس کی رقم واپس کر کے اس سے گاڑی لے لیں۔ اگر صلح نہ ہو سکے تو یہ معاملہ اپنے علاقہ کے قاضی کی عدالت میں پیش کر کے فیصلہ کرا لیں۔ اور اگر خریدار کے بارے میں علم نہ ہو تو خرابی کی قیمت بقدر اس کی طرف سے صدقہ کر دیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب