سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سگریٹ (تمباکو) کی بیع

  • 9324
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-09
  • مشاہدات : 452

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تمباکو پینے اور بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تمباکو پینا بھی حرام اور اس کی خریدوفروخت کرنا اور تمباکو و سگریٹ والوں کو اپنی دکانیں کرایہ پر دینا بھی حرام ہے کیونکہ یہ گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون ہے اور اس کی حرمت کی دلیل حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تُؤتُوا السُّفَهاءَ أَمو‌ٰلَكُمُ الَّتى جَعَلَ اللَّهُ لَكُم قِيـٰمًا...٥﴾... سورة النساء

"اور بے عقلوں کو ان کا مال، جسے اللہ نے تم لوگوں کے لیے سبب معشیت بنایا ہے مت دو۔"

اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم بے عقلوں کو مال دیں کیونکہ بے عقل اس میں ایسا تصرف کرے گا جس میں فائدہ نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ یہ مال دینی و دنیوی مصلحتوں کے حصول کا ذریعہ اور لوگوں کے لیے سبب معشیت ہے اور اس مال کو تمباکو اور سگریٹ میں خرچ کر دینے میں نہ دین کا فائدہ ہے اور نہ دنیا کا، لہذا اس میں خرچ کرنا اس مقصد کے منافی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا ہے، اس کی حرمت کی ایک دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے:

﴿وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم...٢٩﴾... سورة النساء

"اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔"

اس آیت کریمہ سے استدلال یہ ہے کہ طب اور میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ نوشی ایسی مہلک بیماریوں کا سبب بنتا ہ ے جو انسان کو موت کے منہ میں گرا دیتی ہیں مثلا کینسر کا ایک بڑا سبب بھی حقہ اور سگریٹ نوشی ہے تو تمباکو نوشی کرنے والا ایک ایسی چیز کو استعمال کرتا ہے جو ہلاکت کا سبب ہے اس کے حرام ہونے کی ایک اور دلیل حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے:

﴿وَكُلوا وَاشرَ‌بوا وَلا تُسرِ‌فوا ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِ‌فينَ ﴿٣١﴾... سورة الاعراف

"اور کھاؤ اور پیو اور بے جا نہ اڑاؤ کیونکہ اللہ بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔"

اس آیت کریمہ سے استدلال اس طرح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مباح چیزوں میں بھی اسراف یعنی حد سے بڑھ کر خرچ کرنے سے منع فرمایا ہے، تو ایک ایسے کام میں مال خرچ کرنا تو بالاولیٰ منع ہو گا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔

اس کی حرمت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے[1] اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو اور سگریٹ خریدنے میں مال صرف کرنا مال کو ضائع کرنا ہے، کیونکہ کسی بے فائدہ کام میں مال صرف کرنا بلاشبہ اسے ضائع کنا ہی ہے۔ اس کی حرمت کے اگرچہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں لیکن عقل مند کے لیے تو کتاب و سنت کی صرف ایک دلیل ہی کافی ہوتی ہے۔

اس کی حرمت کی عقلی دلیل یہ بھی ہے کہ کسی بھی عقل مند کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کسی ایسی چیز کو اختیار کرے جو اس کے لیے نقصان اور بیماری کا سبب بنے اور پھر اس میں مال بھی خرچ ہوتا ہو کیونکہ عقلمند تو اپنے جسم اور مال کی حفاظت کرتا ہے اور اس میں کوتاہی صرف وہی کرتا ہے جس کی عقل اور سمجھ بوجھ میں نقص ہو۔ اس کی حرمت کی دوسری عقلی دلیل یہ ہے کہ جب اسے سگریٹ نہیں ملتی تو اس کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے، افکار پریشان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور سگریٹ نوش کو عبادت خصوصا روزہ رکھنا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے کیونکہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک سگریٹ چھوڑنا اسے بہت گراں معلوم ہوتا ہے اور اگر روزہ موسم گرما کے طویل دنوں کا ہو تو پھر سگریٹ نوش روزے کو انتہائی ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھتا ہے، لہذا میں اپنے مسلمان بھائیوں کو عموما اور سگریٹ نوشی میں مبتلا لوگوں کو خصوصا یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سگریٹ اور تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب کریں، اس کی خرید و فروخت بھی نہ کریں اور اس کا کاروبار کرنے والوں سے بھی کرایہ پر دکان دینے یا کسی بھی اور صورت میں ہرگز ہرز تعاون نہ کریں۔


[1] صحیح البخاری، الادب، باب عقوق الوالدین من الکبائر، حدیث: 5975 وصحیح مسلم، الاقضیۃ، باب النھی عن کثرۃ المسائل...الخ، حدیث: 12،593

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ