السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تاجر کے اس سونا کے عوض سونا لینے کے بارے میں کیا حکم ہے، جس کے بارے میں مشتری مشورہ کرنا چاہتا ہو اور تاجر نے مشتری کے واپس کرنے تک جو سونا رہن رکھا جاتا ہے ظاہر ہے کہ ان دونوں کا وزن ایک نہیں ہوتا؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اس میں کوئی حرج نہیں جب کہ اس نے بیع نہ کی ہو اور صرف یہ کہا ہو کہ اس سونے کو اپنے پاس رہن رکھ لو حتیٰ کہ میں جا کر مشورہ کر لوں اور پھر واپس آ کر ہم از سر نو سودا کرین گے اور جب وہ سودا کر لیں تو وہ مکمل قیمت ادا کر دے اور رہن رکھے ہوئے اپنے سونے کو واپس لے لے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب