سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھیاں۔۔۔

  • 9308
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-08
  • مشاہدات : 1259

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مردوں کے لیے مخصوص سونے کی انگوٹھیاں بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے، جب کہ تاجر کو یقین بھی ہو کہ مشتری اسے پہنے گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مردوں کے لیے مخصوص سونے کی انگوٹھیاں بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے، جب کہ تاجر کو یقین بھی ہو کہ مشتری اسے پہنے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھیاں بیچنا حرام ہے جب کہ بائع کو یہ علم ہو یا اس کا ظن غالب ہو کہ مرد اسے پہنے گا تو اس کے ساتھ اس نے گناہ کے کام میں تعاون کیا اور اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کہ گناہ اور سرکشی کے کام میں تعاون کیا جائے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ...٢﴾... سورة المائدة

"اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں تم ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔"

زرگر کے لیے بھی یہ حلال نہیں ہے کہ مردوں کے پہننے کے لیے سونے کی انگوٹھیاں بنائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ