السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض اوقات شیطان انسان کے دل میں شرکیہ اور کفریہ خیال ڈالتا ہے ۔تو فورا ہی جھٹک دیتا ہوں اور توحید کے کلمات زبان سے ادا کرتا ہوں۔الحمدللہ۔کیا ان وساوس کا دل میں آنے کا بھی قیامت کے روز مواخذہ ہو گا۔؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نہیں ان کا مؤاخذہ نہیں ہو گا کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم :« إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي مَا وَسْوَسَتْ بِهِ صُدُورُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَكَلَّم » .رواه البخاري ( 2391 ) ومسلم (127) .
اللہ تعالی نے میری امت کے سینے میں پیدا ہونے والے وساوس سے درگزر فرما دیا ہے جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کر لے یا ان کو زبان پر نہ لے آئے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب