سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سونا ادھار خریدنا

  • 9297
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-08
  • مشاہدات : 648

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سونے کی دکانوں کے بعض مالکان جائز سمجھتے ہوئے ادھار سونا خریدتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ بھی سامان تجارت ہی ہے۔ اس سلسلہ میں جب ان کے بڑے لوگوں سے بات کی گئی کہ یہ کام ناجائز ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اہل علم کو اس کام کے بارے میں علم نہیں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ معاملہ یعنی سونے کی دراہم کے ساتھ ادھار بیع بالاجماع حرام ہے کیونکہ یہ ربا النسیئہ ہے اور عبادہ بن صامت کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سونا سونے کے بدلہ، چاندی چاندی کے بدلہ۔۔۔ الخ اور پھر آپ نے فرمایا:

(فاذا اختلفت هذه الاصناف‘ فبيعوا كيف شئتم‘ اذا كان يدا بيد) (صحيح مسلم‘ المساقاة‘ باب الصرف و بيع الذهب بالورق نقدا‘ ح: 1587)

"جب یہ اصناف مختلف ہوں تو پھر جس طرح چاہو بیچو جب کہ معاملہ دست بدست ہو۔"

انہوں نے جو یہ کہا ہے کہ اہل علم کو اس کا علم نہیں ہے تو یہ اہل علم پر ناحق تہمت ہے کیونکہ اگر یہ انہیں اہل علم کہہ رہا ہے تو پھر انہیں علم ہے کیونکہ علم کی صد تو جہالت ہے اور اہل علم ہونے کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر جو احکام نازل فرمائے ہیں یہ انہیں جانتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ، حرمت پر دلالت نص کی وجہ سے، ایک حرام کام ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ