سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سونے کی دکانوں کے مالکان کا زبانی و کالہ

  • 9296
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-08
  • مشاہدات : 386

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ لازم ہے کہ سونے کی دکانوں کے مالکان کے مابین زبانی و کالہ ہو؟ یا اتنا ہی کافی ہے جیسا کہ ان کی عادت ہے کہ معروف نرخ پر بیچ دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وکالہ عقود میں سے ایک عقد ہے جو کہ قول یا فعل کی دلالت کے مطابق منعقد ہو جاتا ہے۔ جب دکان داروں کی یہ عادت ہو کہ ان میں سے اگر کسی کے پاس کوئی سامان نہ ہو اور مشتری پاس کھڑا ہو تو وہ اپنے پڑوس سے اس سامان کو لے کر اسے بیچ دے اور قیمت اسے بھی معلوم ہو جس نے اس سامان کو لیا اور اس کے مالک کی طرف سے بیچ دیا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اہل علم کے قول کے مطابق وکالہ اس کے مطابق منعقد ہو جاتا ہے، جس پر قول یا فعل دلالت کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ