سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

شرعی نفع بازار کے رواج کے مطابق ہوتا ہے

  • 9277
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 256

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک دوست کچھ سامان ساٹھ اشرفیوں میں خرید کر دو سو اسی اشرفیوں میں فروخت کرتا ہے، اس بارے میں کیا حکم شریعت ہے؟ شرعا تجارت میں کتنا نفع جائز ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک دوست کچھ سامان ساٹھ اشرفیوں میں خرید کر دو سو اسی اشرفیوں میں فروخت کرتا ہے، اس بارے میں کیا حکم شریعت ہے؟ شرعا تجارت میں کتنا نفع جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان پر یہ واجب ہے کہ وہ عامۃ المسلمین کی ہمدردی و خیرخواہی کرے، ان میں اختلاف پیدا نہ کرے، معاملات میں انہیں نقصان نہ پہنچائے اور نا واقف لوگوں کی عدم واقفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دگنی چوگنی قیمت وصول نہ کرے۔ بائع کے لیے لازم ہے کہ اسی نفع پر قناعت کرے جس کا عام طور پر بازار میں رواج ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC