السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں ایسے صوفے بنانے کی صنعت سے وابستہ ہوں، جن کی لکڑی کی چھلن کے ساتھ بھرا جاتا ہے اور جب میں انہیں بیچتا ہوں تو خریدار کو سمجھا دیتا ہوں کہ انہیں چھیلن کے ساتھ بھرا گیا ہے تو کیا یہ کاروبار جائز ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب آپ خریدار کو یہ بتا دیتے ہیں کہ صوفوں کو چھیلن کے ساتھ بھرا گیا ہے اور چھیلن کی یہ قسم اس طرح نمایاں ہو کہ جب آپ خریدار کو بتائیں تو وہ گویا اس کو دیکھ رہا ہو تو پھر اس میں کوئی گناہ نہیں کیونکہ یہ حدیث کے عموم میں داخل ہے:
(المسلمون علي شروطهم) (جامع الترمذي‘ الاحكام‘ باب ما ذكر عن رسول الله صلي الله عليه وسلم في الصلح بين الناس‘ ح: 1352 وسنن ابي داود‘ ح: 3594)
"مسلمانوں کو اپنی شرطوں کا پاس کرنا چاہیے۔"
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب