سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جائز بیع سلم کے چند مسائل

  • 9269
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 963

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب کوئی شخص ضرورت مند ہو اور وہ کسی سے کچھ نقد رقم اس شرط پر ادھار لے کہ وہ ایک معین مدت کے بعد اس رقم کے عوض اتنے صاع گندم یا مکئی دے دے گا لیکن جب یہ سودا کرتا ہے، اس وقت گندم یا مکئی ابھی تک کھانے کے قابل نہیں ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب قرض دہندہ مقروض کے ذمہ مذکورہ صاع لازم قرار دے دے گا، تو یہ مسئلہ مسائل سلم میں شمار ہو گا اور سلم بیع کی ایک قسم ہے جو کہ حسب ذیل سات شرطوں کے ساتھ صحیح ہے:

(1)یہ بیع ایسے سودے کے بارے میں ہو جس کی صفت کو ضبط کرنا ممکن ہو۔

(2) اس کی ایسی صفت بیان کرے جس سے قیمت کا اختلاف ظاہر ہو۔

(3) ناپ والی چیز میں اس کے ناپ ، تول والی چیز میں اس کے وزن اور پیمائش والی چیز کے بارے میں اس کی پیمائش کی مقدار کو بیان کرے۔

(4) جس چیز کی بیع سلم کی جا رہی ہو، اسے سپرد کرنے کے لیے مدت معلوم کی شرط عائد کرے۔

(5) جس چیز کے بارے میں بیع سلم کی جا رہی ہو وہ اپنی جگہ پر موجود ہو۔

(6) معاہدہ کی مجلس میں قیمت کو اپنے قبضہ میں لے لے۔

(7) بیع سلم ذمہ کے بارے میں کرے اور اگر سامان کے بارے میں کی تو صحیح نہیں ہو گی۔ قرآن مجید سے بیع سلم کے جواز کی دلیل حسب ذیل آیت کریمہ ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا تَدايَنتُم بِدَينٍ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكتُبوهُ...٢٨٢﴾... سورة البقرة

"اے مومنو! جب تم آپس میں کسی میعاد معین کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو۔"

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "میں گواہی دیتا ہوں کہ قرض جو ایک مدت کے لیے سپرد کیا گیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا اور اس کی اجازت دی ہے اور پھر آپ نے تائید میں اسی مذکورہ بالا آیت کو پڑھا۔ اسے سعید (بن منصور) نے روایت کیا ہے۔

سنت سے اس کی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو اہل مدینہ پھلوں کی ایک یا دو سال کی ادھار بیع کیا کرتے تھے تو آپ نے فرمایا:

(من اسلف في شئيء فلسلف في كيل معلوم ووزن معلوم الي اجل معلوم) (صحيح البخاري‘ السلم‘ باب السلم في وزن معلوم‘ ح: 2240 وصحيح مسلم‘ المساقاة‘ باب السلم‘ ح: 1604)

"جو شخص کسی چیز کی ادھار بیع کرے تو وہ معلوم ناپ، معلوم وزن اور معلوم مدت تک کے لیے بیع کرے۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ