السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض بھائیوں نے جو قسطوں پر گاڑیوں کی خریدو فروخت کی تجارت کرتے ہیں یہ پوچھا ہے کہ وہ ماہانہ قسطوں کی بنیاد پر گاڑی فروخت کرتے ہیں کہ خریدار کے ساتھ قسطیں طے کر لیتے ہیں کیونکہ اسے گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لیے گاڑی خریدنے سے پہلے ہی نفع سمیت بیع طے کر لیتے ہیں تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر بائع گاڑی کو اس کا مالک بننے، اسے اپنے نام کرانے اور اپنے قبضہ میں لینے کے بعد خریدار کو فروخت کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ اس سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکیم بن حزام سے فرمایا تھا:
(لا تبع ما ليس عندك) (مسند احمد: 3/402 وسنن ابي داود‘ البيوع‘ باب في الرجل بيع ما ليس عنده‘ ح: 3503)
"اسے نہ بیچو جو تمہارے پاس موجود ہی نہ ہو۔"
نیز آپ نے فرمایا ہے:
(لا يحل سلف و بيع‘ ولا بيع ما ليس عندك) (سنن ابي داود‘ البيوع‘ باب في الرجل بيع‘ ماليس عنده‘ ح: 3504)
"سلف اور بیع حلال نہیں ہے اور نہ یہ حلال ہے کہ وہ چیز بیچو جو تمہارے پاس موجود ہی نہ ہو۔"
یہ دونوں صحیح حدیثیں ہیں ان کے مطابق عمل کرنا اور ان کی مخالفت سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب