سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مسئلہ تورق

  • 9260
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 302

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہم مساجد میں وعظ و نصیحت کرنے والے علماء سے اکثر یہ سنتے ہیں کہ ادھار خرید و فروخت حرام ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جس نے ایک مال خریدا، اس کی قیمت بھی ادا کر دی اور مالک سے لے کر مال بھی اپنے قبضہ میں لے لیا اور پھر اس کے پاس کوئی دوسرا شخص آ کر اس کی اصل قیمت سے ایک سال کے ادھار پر زیادہ قیمت پر خرید لیتا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم مساجد میں وعظ و نصیحت کرنے والے علماء سے اکثر یہ سنتے ہیں کہ ادھار خرید و فروخت حرام ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جس نے ایک مال خریدا، اس کی قیمت بھی ادا کر دی اور مالک سے لے کر مال بھی اپنے قبضہ میں لے لیا اور پھر اس کے پاس کوئی دوسرا شخص آ کر اس کی اصل قیمت سے ایک سال کے ادھار پر زیادہ قیمت پر خرید لیتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مال کی ادھار اس کی نقد قیمت سے زیادہ قیمت کے ساتھ بیع، اہل علم کے نزدیک مسئلہ تورق کے نام سے معروف ہے اور حنابلہ کے نزدیک اس مسئلہ میں ترجیح اس بات کو ہے کہ یہ جائز ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"جب مشتری کو سامان کی تو ضرورت نہ ہو بلکہ اسے سونے چاندی کی ضرورت ہو اور وہ سامان خرید لے تاکہ اسے اس نقدی کے ساتھ بیچ دے جس کی اسے ضرورت ہے، اس صورت میں اگر اس نے اس سامان کو بائع کے پاس ہی لوٹا دیا تو اس کی حرمت میں کوئی شک نہیں اور اگر وہ یہ سامان کسی اور کو مکمل بیع کی صورت میں فروخت کر دے اور کسی حال میں بھی یہ پہلے مالک کی طرف واپس نہ لوٹے تو سلف کا اس کے مکروہ ہونے میں اختلاف ہے۔ وہ معاملہ کی اس صورت کو "تورق" کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اسے مکروہ قرار دیتے اور فرماتے تھے کہ تورق سود کا بھائی ہے۔ ایاس بن معاویہ اس کی رخصت دیتے تھے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے اس مسئلہ میں دو روایتیں منصوص ہیں۔"

شیخ الاسلام مزید فرماتے ہیں:

"جو شخص کسی سے قرض لے تو اس کی تین صورتیں ہیں: (1) ان کے درمیان لفظی یا عرفی موافقت ہو کہ مشتری دکان کے مالک سے سودا خریدے گا اور پھر اسے بیچے گا لیکن پھر یہ سودا دکان کے مالک ہی کو لوٹا دیا جائے تو یہ جائز نہیں ہے۔

(2) دکان کے مالک سے خرید کر اسی کو لوٹا دے گا تو یہ صورت بھی حدیث ام ولد زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی وجہ سے جائز نہیں۔

(3) مشتری اولا سامان خرید لے اور پھر ثانیا اس (سامان) کو (اس شخص کے ہاں) فوخت کر دے جس سے اس نے قرض لیا ہے، اس صورت کا نام "تورق" ہے کیونکہ مشتری کی غرض روپیہ حاصل کرنا ہے کہ وہ لیتا تو ایک سو ہے لیکن اس صورت میں اس کے ذمہ ایک سو بیش (مثلا) ہو جاتا ہے۔ سلف کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ اس لیے زیادہ قوی بات یہ ہے کہ یہ ممنوع ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ "تورق" سود ہے، اللہ تعالیٰ نے اس بات کو حرام قرار دیا ہے کہ اگر دراہم ایک مدت کے ادھار پر دئیے ہوں تو واپسی پر ان سے زیادہ لیے جائیں کیونکہ یہ محتاج کو ضرور پہنچانا اور اس کے مال کو باطل طریقے سے کھانا ہے اور یہ بات تورق کی صورت میں موجود ہے، اور اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے اور اللہ تعالیٰ نے جسے جائز قرار دیا ہے وہ بیع اور تجارت ہے۔"

مشتری کا مقصود اگر اس سامان کو استعمال کرنا ہے جسے اس نے خریدا ہے یا اس سامان سے وہ تجارت کرنا چاہتا ہے تو پھر نقد قیمت سے ادھار کی صورت میں زیادہ قیمت پر اس کی بیع جائز ہے بشرطیکہ بائع اس کا واقعی مالک ہو جس چیز کو اس نے اس سے خریدا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ