سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ادھار کی صورت میں نقد سے زیادہ قیمت

  • 9255
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 322

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی اگر نقد قیمت پر دس گنی میں ایک سودا بیچتا ہے لیکن اگر وہ اسی سودے کو نقد قیمت کے بجائے ماہانہ قسطوں پر بیچے تو وہ اس سے بہت زیادہ قیمت وصول کرتا ہے، تو کیا یہ زائد قیمت سود شمار ہو گی یا زائد قیمت کے لیے کوئی حد مقرر ہے جس کی بائع کے لیے پابندی کرنا واجب ہے جب کہ وہ قسطوں میں قیمت وصول کر رہا ہو؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی اگر نقد قیمت پر دس گنی میں ایک سودا بیچتا ہے لیکن اگر وہ اسی سودے کو نقد قیمت کے بجائے ماہانہ قسطوں پر بیچے تو وہ اس سے بہت زیادہ قیمت وصول کرتا ہے، تو کیا یہ زائد قیمت سود شمار ہو گی یا زائد قیمت کے لیے کوئی حد مقرر ہے جس کی بائع کے لیے پابندی کرنا واجب ہے جب کہ وہ قسطوں میں قیمت وصول کر رہا ہو؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب امر واقع اسی طرح ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ادھار کی صورت میں نقد سے زیادہ قیمت پر سامان بیچنا جائز ہے، خواہ قیمت قسطوں میں ادا کی جا رہی ہو یا طے شدہ مدت پر یک مشت ہی ادا کر دی جائے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ الگ الگ ہونے سے پہلے بیع کی قسم کا تعین کر لیں اور اس بات کو بھی طے کر لیں کہ یہ بیع نقد ہو گی یا ادھار! زیادہ قیمت کو وصول کرنا سود نہیں ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی بھی نص نہیں ہے جس نے نقد کے بجائے ادھار کی صورت میں زائد قیمت کی مقدار کا تعین کیا ہو۔ ہاں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی ضرور تترغیب دی ہے کہ بیع و شراء میں اور وصولی اور ادائیگی میں عالی ظرفی اور رواداری کا ثبوت دینا چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ