سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ادھار کی وجہ سے سامان کو زیادہ قیمت پر خریدنا

  • 9254
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 407

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں جس کمپنی میں ملازم ہوں، اس سے میں نے زیادہ قیمت پر مکان خریدا ہے کیونکہ میں ایک کم آمدنی والا ملازم ہوں، تو کیا یہ وہ سود تو شمار نہ ہو گا، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں جس کمپنی میں ملازم ہوں، اس سے میں نے زیادہ قیمت پر مکان خریدا ہے کیونکہ میں ایک کم آمدنی والا ملازم ہوں، تو کیا یہ وہ سود تو شمار نہ ہو گا، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ وہ سود نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے بشرطیکہ آپ کے معاہدہ کرنے سے قبل کمپنی اس مکان کی مالک ہو۔ اگر انسان کسی چیز کو اس کی موجودہ قیمت سے زیادہ پر ادھار کی صورت میں خریدے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کے جواز پر مسلمانوں کا اجماع نقل فرمایا ہے اور پھر اس میں بائع و مشتری دونوں ہی کی مصلحت ہے۔ بائع کا فائدہ یہ ہے کہ اسے قیمت زیادہ ملتی ہے اور مشتری کا فائدہ یہ ہے کہ اسے قیمت ادا کرنے کے لیے مہلت مل جاتی ہے اور یہ سود نہیں ہے کیونکہ سود تو کچھ معین اشیاء کے ساتھ مخصوص ہے جو کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں مذکور ہیں اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(الذهب بالذهب‘ والفضة بالفضه‘ والبر بالبر‘ والشعير بالشعير‘ والتمر بالتمر‘ والملح بالملح‘ مثلا بمثل‘ سواء بسواء‘ يدا بيد) (صحيح مسلم‘ المساقاة‘ باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا‘ ح: 1587)

"سونا سونے کے ساتھ، چاندی چاندی کے ساتھ، گندم گندم کے ساتھ، جو جو کے ساتھ، کھجور کھجور کے ساتھ اور نمک نمک کے ساتھ، جب کہ وہ ایک جیسے، برابر برابر اور دست بدست ہوں۔"

ان چھ اشیاء اور جو علت میں ان میں شریک ہوں (حسب اختلاف علماء) ان میں سود ہے اور جو چیز اپنی ہی جنس کے ساتھ بیچی جا رہی ہو، اس کے لیے دو شرطیں ہیں۔ (1)تول والی اشیاء وزن میں اور ناپ والی اشیاء ناپ میں برابر ہوں۔ (2) فریقین الگ الگ ہونے سے پہلے قبضہ میں لے لیں اور اگر کوئی چیز کسی دوسری جنس کے ساتھ بیچی جا رہی ہو تو پھر مساوی ہونا شرط نہیں ہے، لیکن جب اسے کسی ایسی چیز کے ساتھ بیچا جا رہا ہو جو اس کے ساتھ علت میں اشتراک رکھتی ہو تو پھر ضروری ہے کہ دونوں الگ الگ ہونے سے پہلے اسے قبضہ میں لے لیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(فاذا اختلفت هذه الاصناف‘ فبيعوا كيف شئتم‘ اذا كان يدا بيد) (صحيح مسلم‘ المساقاة‘ باب الصرف و بيع الذهب بالورق نقدا‘ ح: 1587)

"جب یہ اصناف مختلف ہوں تو پھر جیسے چاہو بیچو جب کہ سودا دست بدست ہو۔"

اور وہ اشیاء جو ان اصناف کے سوا اور علت میں مشترک ہوں تو ان میں سود نہیں ہے، مثلا حیوان اور کپڑوں وغیرہ کی بیع۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لشکر کی تیاری کا حکم دیا تو وہ ایک اونٹ خریدتے کہ جب صدقہ کے اونٹ آئیں گے تو دو اونٹ ادا کر دیں گے [1]اور دو اونٹ لیتے کہ وہ تین دیں گے، لیکن اگر سودے میں درہم آ جائیں اور ادا کرنے کے لیے مدت کا تعین کیا جائے تو یہ حرام ہے کیونکہ یہ سود ہے۔


[1] سنن ابی داود، البیوع، باب فی الرخصة، حدیث: 3357

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ