سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ادھار اور سامان کو قبضہ میں لینے سے پہلے بیع

  • 9253
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 273

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب انسان کے پاس کوئی سامان مثلا دانے یا چینی یا تیل یا مویشی ہو جس کی نقد قیمت ایک سو ریال ہو اور وہ اسے ایک محدود مدت کے ادھار پر جو کہ عموما ایک سال ہوتی ہے، ایک سو تیس ریال پر بیچ دے تو کیا یہ جائز ہے جب کہ خریدار بسا اوقات ایک سال یا دو سال گزرنے پر بھی قیمت ادا نہیں کرتا؟
اسی طرح مقروض سٹور یا دوکان سے ایک چیز خریدتا ہے تو کیا وہ اسے گننے اور وصول کرنے کے بعد اسی جگہ بیچ سکتا ہے یا ضروری ہے کہ وہ اسے اپنے قبضے میں لے کر کسی دوسری جگہ منتقل بھی کرے؟ فتویٰ عطا فرما کر ثواب حاصل کریں!

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب انسان کے پاس کوئی سامان مثلا دانے یا چینی یا تیل یا مویشی ہو جس کی نقد قیمت ایک سو ریال ہو اور وہ اسے ایک محدود مدت کے ادھار پر جو کہ عموما ایک سال ہوتی ہے، ایک سو تیس ریال پر بیچ دے تو کیا یہ جائز ہے جب کہ خریدار بسا اوقات ایک سال یا دو سال گزرنے پر بھی قیمت ادا نہیں کرتا؟

اسی طرح مقروض سٹور یا دوکان سے ایک چیز خریدتا ہے تو کیا وہ اسے گننے اور وصول کرنے کے بعد اسی جگہ بیچ سکتا ہے یا ضروری ہے کہ وہ اسے اپنے قبضے میں لے کر کسی دوسری جگہ منتقل بھی کرے؟ فتویٰ عطا فرما کر ثواب حاصل کریں!


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کھانے کی اشیاء یا کوئی اور سامان مدت معلوم کے ادھار پر بیچے خواہ وہ بیع کے وقت کی قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرے اور مقروض کو چاہیے کہ وہ مقررہ مدت پر قرض کو ادا کر دے جیسا کہ حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ کے عموم کا تقاضا ہے:

﴿فَإِن أَمِنَ بَعضُكُم بَعضًا فَليُؤَدِّ الَّذِى اؤتُمِنَ أَمـٰنَتَهُ وَليَتَّقِ اللَّهَ رَ‌بَّهُ...٢٨٣... سورة البقرة

"اور اگر کوئی کسی کو امین سمجھے تو امانت دار کو چاہیے کہ صاحب امانت کی امانت ادا کر دے اور اللہ سے جو اس کا پروردگار ہے ڈرے۔"

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا ہے:

(من اخذ اموال الناس يريد اداءها ادي الله عنه‘ ومن اخذ يريد اتلافها اتلفه الله) (صحيح البخاري‘ الاستقراض‘ باب من اخذ اموال الناس...الخ‘ ح: 2387)

"جو شخص لوگوں کے اموال لے اور انہیں ادا کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ادا کرنے کے اسباب مہیا فرما دیتا ہے اور جو لوگوں کے اموال لے اور انہیں تلف کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضائع کر دیتا ہے۔"

اور جب کوئی انسان کسی سٹور یا دوکان سے کوئی سامان خریدے اور مالک گن کر اسے دے دے تو مشتری (خریدار) کے لیے اسے اسی جگہ بیچنا جائز نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ اسے اپنے قبضہ میں لے کر کسی دوسری جگہ منتقل کرے، کیونکہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حکیم بن حزام کی روایت بیان فرمائی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں کچھ اشیاء خریدتا ہوں، ان کو کون سی صورت حلال اور کون سی حرام ہے؟ آپ نے فرمایا:

(اذا اشتريت بيعا فلا تبعه حتي تقبضه) (مسند احمد: 3/402)

"جب تم سودا خریدو تو اسے اس وقت تک نہ بیچو جب تک اپنے قبضہ میں نہ لے لو۔"

اسی طرح امام احمد اور ابوداود نے حضرت زید بن ثابت کی اس روایت کو بیان کیا ہے:

(نهي ان تباع السلع حيث تبتاع حتي يحوزها التجار الي رحالهم) (سنن ابي داود‘ البيوع‘ باب في بيع الطعام قبل ان يستوفي‘ ح: 3499)

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ سودے کو وہاں بیچا جائے جہاں سے اسے خریدا ہو، اور یہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک تاجر سامان کو اپنی جگہوں پر منتقل نہ کر لیں۔"

اور امام احمد اور مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث کو بھی بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(اذا ابتعت طواما فلا تبعه حتي تستوفيه) (صحيح مسلم‘ باب بطلان بيع المبيع قبل القبض‘ ح: 1529)

"جب تم غلہ خریدو تو اسے اس وقت تک نہ بیچو جب تک اس کو اپنے قبضہ میں نہ لے لو۔"

مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:

(من ابتاع طعاما فلا يبعه حتي يكتاله) (صحيح مسلم‘ البيوع‘ باب بطلان بيع المبيع قبل البعض‘ ح: 1525‘1528)

"جو شخص غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے تول کر اپنے قبضہ میں نہ لے لے۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ