سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

بچے کا نام رکھنے کے لیے اجتماع

  • 9251
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-07
  • مشاہدات : 588

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا بچے کا نام رکھنے کے لیے احباب، پڑوسیوں اور دوستوں کا اجتماع کو بدعت و کفر قرار دیا جائے گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا بچے کا نام رکھنے کے لیے احباب، پڑوسیوں اور دوستوں کا اجتماع کو بدعت و کفر قرار دیا جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بچے کا نام رکھنے کے لیے اجتماع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نہیں ہے اور نہ آپ کے عہد میں صحابہ کرام میں سے کسی نے ایسا کیا تھا۔ لہذا جو اسے سنت سمجھ کر کرے تو وہ دین میں ایک ایسی بات ایجاد کرتا ہے جو اس میں سے نہیں ہے۔ لہذا یہ رسم بدعت و مردود قرار پائے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد) (صحيح البخاري‘ الصلح‘ باب اذا اصطلحوا علي صلح جور...الخ‘ ح: 2697)

"جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہ ہو تو وہ مردود ہے۔"

لیکن اسے کفر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں البتہ فرحت اور مسرت کے طور پر یا دعوت عقیقہ کھانے کے لیے اجتماع ہو اور اسے سنت نہ سمجھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کرنا اور بچے کا نام رکھنا مشروع ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ