السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بعض عورتوں میں جو یہ رواج ہے کہ جب ان کی کسی سہیلی کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس نومولد بچے کو کچھ رقم بطور تحفہ دیتی ہیں، کیا اس رواج کی کوئی شرعی اصل بھی ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ولادت کے وقت مولود کو ہدیہ دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اصول یہ ہے کہ ہدیہ تمام معاملات میں حلال ہے، الا یہ کہ اس کی حرمت کی کوئی دلیل ہو۔ جب عرف و عادت یہ ہے کہ بچے کی ولادت پر اعزہ و اقارب ہدیہ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ عبادت کے طور رپر نہیں بلکہ محض عرف و عادت کے طور پر ایسا کیا جاتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب