السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو دس ذوالحجہ کو کسی سے قربانی کا گوشت لے لے جبکہ وہ خود بھی خوش حال ہو اور اسے گوشت کی ضرروت نہ ہو؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جائز ہے کیونکہ ہدی، قربانی اور ہدی تمتع و قران کا گوشت تمام حاجیوں کے لیے خواہ وہ امیر ہوں یا فقیر جائز ہے خصوصا جب کہ گوشت کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہو جیسا کہ آج کل قربانی کے بہت سے جانوروں کے گوشت کو پھینک دیا، جلا دیا یا دفن کر دیا جاتا ہے اور ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اور پھر ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے:
﴿فَإِذا وَجَبَت جُنوبُها فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ...٣٦﴾... سورة الحج
"ان میں سے تم (خود) بھی کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والے کو بھی کھلاؤ۔"
قانع سے مراد قناعت سے بیٹھ رہنے والا اور سوال نہ کرنے والا جبکہ معتر سے مراد وہ ہے جو سوال کرنے والا ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب