السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جب وقت ذبح آ جائے اور گھر میں کوئی مرد موجود نہ ہو تو کیا عورت کے لیے قربانی کرنا جائز ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہاں عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ بوقت ضرورت قربانی یا دوسرے جانور کو ذبح کر سکتی ہے جبکہ ذبح کرنے کی دیگر شرائط موجود ہوں۔
قربانی ذبح کرتے وقت ان لوگوں کا نام لینا مسنون ہے، جن زندہ یا مردہ لوگوں کی طرف سے ذبھ کرنے کی اس نے نیت کی ہو اور اگر نام نہ لیا جائے تو نیت بھی کافی ہے۔ اور اگر کسی اور کا نام غلطی سے لے لے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نیتوں کو خوب جانتا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب