السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور عشرہ ذوالحجہ میں جب داڑھی میں کنگھی کرتا ہوں تو اس سے کچھ بال گر جاتے ہیں، تو کیا میں کنگھی کر سکتا ہوں یا نہیں؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
داڑھی میں کنگھی کرنے سے قصد و ارادہ کے بغیر جو بال گر جائیں یہ قابل معافی ہیں کیونکہ یہ بال بے جان شمار ہوتے ہیں، اسی طرح وضو اور غسل کرتے وقت محرم کے سر اور داڑھی سے جو بال از خود گر جائیں وہ بھی قابل معافی ہیں کیونکہ یہ بال بے جان ہوتے ہیں تو عشرہ کے آغاز کے بعد قربانی کرنے والے کے بالوں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے، ہاں البتہ حرام یہ ہے کہ حالت احرام میں یا قربانی کرنے والا عشرہ ذوالحجہ کے شروع ہونے کے بعد جان بوجھ کر بال یا ناخن کاٹے۔ یاد رہے کہ داڑھی کے بالوں کو جان بوجھ کر کاٹنا نہ حالت احرام میں جائز ہے اور نہ کسی دوسری حالت میں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(وصوا الشوارب واعفوا اللحي (خالفو المشركين) (مسند احمد: 2/229 عن ابي هريرة‘ بدون الشطر الاخير الذي رواه البخاري في الصحيح‘ اللباس‘ باب تقديم الاظفار‘ ح: 5892‘ عن ابن عمر)
"مونچھیں کاٹو، داڑھی بڑھاؤ اور مشرکین کی مخالفت کرو۔"
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب