السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی نے اس سال اپنے فوت شدہ والد کی طرف سے حج کیا لیکن اس نے سفر کا آغاز اپنے والد کے آبائی وطن سے نہیں کیا تھا، تو وہ یہ پوچھتا ہے، کیا اس کا یہ حج صحیح ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سائل کے سوال سے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے والد کی طرف سے حج بدل کر رہا ہے اور اگر امر واقع اسی طرح ہے تو اس حج میں کوئی حرج نہیں خواہ اس نے سفر کا آغاز اپنے والد کے آبائی وطن سے نہ بھی کیا ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب