سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

نفل حج یا مجاہدین کے ساتھ امداد

  • 9221
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-06
  • مشاہدات : 395

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس شخص نے فریضہ حج ادا کیا ہو اور وہ دوبارہ حج کر سکتا ہو تو کیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ دوبارہ حج کے اخراجات کووو افغانستان کے مسلمان مجاہدین پر خرچ کر دے؟ کیونکہ دوبارہ حج تو نفل ہے اور جہاد کے لیے خرچ کرنا فرض، رہنمائی فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس شخص نے فریضہ حج ادا کیا ہو تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ دوسرے حج کے نفقہ کو مجاہدین فی   سبیل اللہ مثلا مجاہدین افغان یا ان میں سے پاکستان میں پناہ گزین مہاجرین پر خرچ کر دے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ سے یہ سوال کیا گیا کہ "کون سا عمل افضل ہے؟" تو آپ نے فرمایا:

(ايمان بالله ورسوله‘ قيل ثم اي؟ قال: الجهاد في سبيل الله‘ قيل ثم اي؟ قال: حج مبرور) (صحيح البخاري‘ الايمان‘ باب من قال ان الايمان هو العمل‘ ح: 26 وصحيح مسلم‘ الايمان‘ باب بيان كون الايمان بالله تعاليٰ افضل الاعمال‘ ح: 83)

"اللہ اور اس کے رسول پر ایمان" سائل نے پوچھا اس کے بعد کون سا عمل افضل ہے؟" تو آپ نے فرمایا "جہاد فی سبیل اللہ" سائل نے پوچھا "اس کے بعد کون سا" تو آپ نے فرمایا "حج مبرور"۔

اس حدیث میں حج کو جہاد کے بعد ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس سے مراد نفل حج ہے جب کہ فرض حج تو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے بشرطیکہ اس کی استطاعت ہو اور صحیح بخاری و مسلم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث موجود ہے

(من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزي‘ ومن خلفه في اهله بخير فقد غزي) (صحيح البخاري‘ الجهاد‘ باب فضل من جهز غازيا الخ‘ ح: 2843 وصحيح مسلم‘ الامارة‘ باب فضل اعانة الغازي الخ‘ ح: 1895 واللفظ له)

"جس نے راہ الہی کے غازی کو تیار کیا اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے اچھے طریقے سے اس کے بعد اس کے گھر کی نگہداشت کی اس نے بھی جہاد کیا۔"

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ مجاہدین فی سبیل اللہ اس بات کے سخت محتاج ہیں کہ ان کے بھائی ان کی مادی امداد کریں اور مذکورہ بالا دو حدیثوں اور دیگر احادیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ نفل حج کی نسبت مجاہدین پر خرچ کرنا افضل ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ