سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کمیشن ایجنٹ کی کمائی کا حکم

  • 9213
  • تاریخ اشاعت : 2014-01-04
  • مشاہدات : 2660

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ریئل اسٹیٹ بزنس سے متعلق چند فتاویٰ درکار ہیں۔ اگر آپ برادران کے لئے ممکن ہوکہ محدث فتویٰ فورم سے وابستہ علمائے کرام سے ترجیحی بنیادوں پر درج ذیل جوابات فراہم کرسکیں تو احقر ممنون ہوگا ۔پہلے چار سوال تو ریئل اسٹیٹ بزنس میں معمول کے ہیں جبکہ اسی سے متعلق پانچواں سوال اس وقت کراچی کے لاکھوں لوگوں سے متعلق ہے۔ عام روٹ سے ہٹ کر آپ منتظمین کی معرفت سوال کرنے کا مقصد یہی ہے کہ جواب فوری طور پر مل سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو یہ کام فوری طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

1۔ ریئل اسٹیٹ بزنس میں ایجنٹ “مڈل مین” کا کردار ادا کرتا ہے۔ یعنی جائیداد کا مالک (فروخت کنندہ) کوئی اور ہوتا ہے اور خریدار کوئی اور۔ اس بزنس میں ایجنٹ دونوں پارٹیوں کے درمیان سودا طے کرواتا ہے اور سودا ہوجانے کی صورت میں ہر فریق سے سودے کی مالیت کا دو فیصد کمیشن لیتا ہے۔ کیا اس طرح کا بزنس جائز ہے کیونکہ احادیث میں مالک اور خریدار کے درمیان “بروکری” کو ناپسند کیا گیا ہے۔

2۔ سودا طے پاجانے کی صورت میں خریدار مالک کو سودے کی مالیت کا چند فیصد بطور زر بیعانہ فوری طور پر ادا کرتا ہے اور یہ اقرار کرتا ہے کہ فلاں تاریخ تک بقیہ رقم ادا کرکے جائیداد خرید لے گا۔ اگر کسی وجہ سے معینہ تاریخ تک خریدار بقیہ رقم ادا نہیں کرتا تو سودا از خودمنسوخ سمجھا جاتا ہے اور مالک زر بیعانہ ضبط کرلیتا ہے۔ اسی طرح اگر بیعانہ لینے کے بعد جائیداد کا مالک کسی بھی وجہ سے یہ سودا منسوخ کردیتا ہے تو اُسے خریدار کو وصول شدہ زربیعانہ اور اس کے مساوی اضافی رقم ادا کرنی ہوتی ہے۔ کیا اس طرح زر بیعانہ ضبط کرنا یا دگنا زربیعانہ واپس کرنا جائز ہے۔ واضح رہے کہ یہ عمل اس بزنس کا معمول ہے اور سب کے علم میں ہے۔

3۔ اکثر و بیشتر یہ بھی ہوتا ہے کہ ایجنٹ مالک سے پوچھتا ہے کہ آپ اپنی جائیداد کتنی رقم میں بیچنا چاہتے ہیں۔ مالک جائیداد کی مطلوبہ قیمت بتلا دیتا ہے۔ اب اگر ایجنٹ کو کوئی ایسا خریدار مل جاتا ہے جو مالک کی مطلوبہ ڈیمانڈ سے زائد قیمت میں جائیداد خریدنے کو تیار ہو تو ایجنٹ اس بات سے مالک کو آگاہ کئے بغیر سودا کروا دیتا ہے اور مالک کی مطلوبہ قیمت سے زائد رقم خود رکھ لیتا ہے۔ ایجنٹ دونوں سے اپنا کمیشن الگ لیتا ہے۔ کیا مالک کی مطلوبہ قیمت سے زائد ملنے والی رقم ایجنٹ کے لئے جائز ہے۔(1) اگر اس نے اس بات یہ بات مالک سے چھپائی ہو (2) اگر اس نے یہ بات مالک کو پیشگی بتلا دی ہو کہ آپ کی ڈیمانڈ سے زائد ملنے والی رقم میری ہوگی۔ واضح رہے کہ عموماً ایجنٹ یہ بات مالک کو نہیں بتلاتا البتہ اس بزنس میں اس بات سے سب ہی واقف ہیں کہ ڈیمانڈ سے زیادہ قیمت پر اگر کوئی ایجنٹ سودا کرواتا ہے تو اضافی رقم ایجنٹ ہی لے گا۔ اور یہ ایک عام چلن ہے۔

4۔ اکثر ایجنٹ یہ بھی کرتے ہیں کہ اگر کہیں اُسے کوئی جائیداد نسبتاً سستی مل رہی ہو تو وہ اسے “خریدنے کا سودا” کرکے مالک کو زربیعانہ اپنی جانب سے ادا کردیتا ہے اور مقررہ تاریخ تک “بقیہ رقم” ادا کرنے کا وعدہ کرلیتا ہے۔ اس کے بعد ایجنٹ کوئی حقیقی خریدار یا دوسرا ایجنٹ تلاش کرتا ہے جو یہی سودا زیادہ قیمت پر خریدنے پر رضامند ہو۔ پھر پہلا ایجنٹ خریدار یا دوسرے ایجنٹ سے یہ “اضافی رقم” بطور زر بیعانہ وصول کرکے اُسے بقیہ رقم معینہ مدت تک ادا کرنے کو کہتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ سلسلہ ایجنٹ در ایجنٹ چلتا ہے۔ کیا کسی ایجنٹ کے لئے اس طرح کی “اضافی آمدنی” جائز ہے۔ واضح رہے کہ ریئل اسٹیٹ بزنس میں یہ ایک عام معمول ہے اور مالک جائیداد اور حقیقی خریدار بھی اس “مارکیٹ ٹرینڈ” سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ تاہم ایجنٹ کسی بھی ڈیلنگ کے دوران مالک یا خریدار کو بطور خاص یہ نہیں بتلاتا کہ ہم آپ کے کیس میں بھی ایسا کر رہے ہیں۔ گو اس طرح مالک کو اپنی ڈیمانڈ کے مطابق رقم مل جاتی ہے اور خریدار کو اپنی پسند کی قیمت پر جائیداد مل جاتی ہے لیکن اگر انہیں ایجنٹ کی اس “انڈر دی ٹیبل کاروائی” کا پتہ چل جائے تو شاید مالک اضافی رقم بھی مانگنے لگے یا خریدار ایجنٹ کی زیادہ ڈیمانڈ کی بجائے اصل مالک کی کم ڈیمانڈ والی رقم ہی دینے پر راضی ہو۔

5۔ پاکستان کی معروف ہاؤسنگ سوسائٹی “بحریہ ٹاؤن” نے حال ہی میں کراچی میں اپنی ہاؤسنگ اسکیم لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پہلے مرحلہ میں سوسائٹی نے “ کراچی بحریہ ٹاؤن کی ممبرشپ” کا آغاز کیا ہے۔ یہ “ممبرشپ” مبلغ پندرہ ہزار روپے میں جاری کی گئی ہے۔ مستقبل قریب میں جب “بحریہ ٹاؤن کراچی” میں پلاٹس برائے فروخت کے لئے پیش کئے جائیں گے تو صرف “ممبر شپ” حاصل کرنے والے افراد ہی پلاٹ خریدنے کے لئے فارم جمع کرانے کے “اہل” ہوں گے۔ چونکہ ممبر شپ حاصل کرنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہیں، لہذا پلاٹ قرعہ اندازی کے ذریعہ الاٹ ہوں گے۔ قرعہ اندازی میں پلاٹ حاصل نہ کرسکنے والے اپنی ممبرشپ کی فیس میں سے دس ہزار واپس لینے کے اہل ہوں گے جبکہ پانچ ہزار روپے پیشگی اعلان کے مطابق ناقابل واپسی ہوگی۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپکا سوال متعدد پہلووں پر مشتمل ہے،جن کا ترتیب وار جواب درج ذیل ہے۔

1۔مڈل مین کو عربی میں سمسار کہا جاتا ہے، جو خریدار اور بائع کے درمیان واسطے کا کام کرتا ہے۔جمہور فقہاء کرام نے مڈل مین کے کام اور اس کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ اجرت پہلے طے کر لی جائے،اور مجہول نہ رکھی جائے،اور بائع ومشتری کے ساتھ سودے یا قیمت کے حوالے سے کوئی جھوٹ نہ بولا جائے،یہ بھی مزدوری ہی کی ایک قسم ہے۔عبداللہ بن عباس سے ایسا ہی مروی ہے، ابن جریر، عطاء، نخعی، ابوثور، ابن منذر کا قول بھی یہی ہے اور یہی مسلک شوافع اور حضرات موالک و دیگر کا بھی ہے(البحر الرائق:7/72، التاج والاکلیل:6/573، المجموع:9/91، المغنی:5/72)

مشروعیت کے دلائل:

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ‌ وَالتَّقوىٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَى الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ ﴿٢﴾... سورة المائدة

وجہ استدلال: دو افراد اگر کوئی معاملہ کرتے ہیں اور وہ معاملہ غیر شرعی نہیں ہے۔ اب کوئی دلال ان کے درمیان معاملہ کی تکمیل کے لیے واسطے کا کام کرے۔ تو واسطے کا یہ عمل جائز منفعت میں شمار ہوگا، اور اس کا یہ عمل تعاون علی البر بھی کہلائے گا۔

سیدناقیس بن ابوغرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:

كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ، قَالَ: فَأَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِمَّا كُنَّا نُسَمِّي بِهِ أَنْفُسَنَا، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ (1) التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ، وَالْحَلِفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " (2)(مسند احمد:16135)

کہ ہم لوگ مدینے میں پیمانے (اوساق) خرید رہے تھے اور خود کو ”سماسرہ“ بولتے تھے کہ رسول گرامیﷺ ہمارے پاس آئے اور ہمیں اس سے اچھے نام سے یاد کیا، فرمایا: اے تاجروں کی جماعت: فروختگی میں لغو باتیں اور قسم (کیا کچھ نہیں) شامل ہوجاتا ،اس لیے تم اسے صدقہ سے ملا لو،(یعنی اس گناہ کو صدقہ سے مٹاوٴ)۔

وجہ استدلال: حدیث کی عبارت میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے رسول اللہﷺ نے ”سماسرہ“ کا کام درست سمجھا البتہ(بغیر انکار کئے) ایک دوسرا نام پسند فرمایا اور انہیں ”تجار“ کے لقب سے یاد کیا۔امام خطابی نے تو باقاعدہ ”سمسار“کو ”تاجر“ سے بدل دینے کی خوبی پر بھی گفتگو کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ”سمسار“ عجمی لفظ ہے اور ان میں اکثر خرید وفروخت کرنے والے عجمی تھے یہ نام انہیں عجمیوں سے اخذ کردہ ہے جسے رسول اللہﷺ نے ”تاجر“ سے بدل دیا ہے اور یہ ایک عربی نام ہے۔

عموما لوگوں کو دلالی کی سخت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بہت سارے ایسے ہیں جو خرید و فروخت کے بارے میں نہیں جانتے، سودے بازی اور مول بھاوٴ سے وہ بھلی بھانت واقف نہیں ہوتے۔ کتنے ایسے ہیں کہ انہیں کچھ خریدنا پڑ جائے تو اشیاء کی پرکھ اور چیزوں کے عیوب جاننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ کچھ ایسے بھی ملیں گے جنہیں خریدو فروخت کی فرصت ہی نہیں ہوتی ان حالات میں دلالی ایک نفع بخش عمل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ جس سے خریدنے والے، بیچنے والے اور دلال سب ہی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اس لیے دلالی کرنا اور اس پر اجرت لینا غیرمشروع نہیں۔

2۔وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بیعانہ واپس نہ کرنا ،یا سودا منسوخ کر کے ڈبل بیعانہ واپس کرنا،دونوں ہی حرام ہیں،کسی کو کسی کا مال حرام طریقے سے کھانے کی اجازت نہیں ہے،۔ارشادباری تعالی ہے۔:

﴿وَلا تَأكُلوا أَمو‌ٰلَكُم بَينَكُم بِالبـٰطِلِ...١٨٨ ... سورة البقرة

اورتم اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے نہ کھاو

3۔اگر تو بائع کے ساتھ اتفاق ہو جائے کہ اتنی قیمت سے زیادہ کی رقم میری ہو گی تو تب جائز ہے ،امام بخاری نے سیدنا ابن عباس کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کہے:

" لا بأس أن يقول: بع هذا الثوب، فما زاد على كذا وكذا، فهو لك "

آپ یہ کپڑا فروخت کریں اور جو اس قیمت سے زیادہ رقم ہو گی وہ تیری ہے۔تو یہ سودا درست ہے۔(بخاری:باب فی اجر السمسرۃ)

لیکن اگر طے نہ ہو تو خاموشی سے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے۔یہ حرام اور چوری کے زمرے میں شمار ہو گا،اگرچہ پہلے سے معروف ہی کیوں نہ ہو۔

4۔ بیعانے پر آگے فروخت کرنا درست نہیں ہے کیونکہ آپ نے اسے قبضے میں نہیں لیا اور کوئی بھی چیز قبضہ میں لئے بغیر اسے آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

حکیم بن حزام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں کچھ سامان خریدتا ہوں تو اس میں میرے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا:’’ إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلاَ تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ ‘‘( رواہ احمد والبیھقی وابن حبان باسناد حسن)

جب تم کوئی چیز خریدو تو اس کو نہ بیچو یہاں تک کہ اس پر قبضہ کر لو۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ’’ وَكُنَّا نَشْتَرِى الطَّعَامَ مِنَ الرُّكْبَانِ جِزَافًا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نَنْقُلَهُ مِنْ مَكَانِهِ ‘‘ (صحيح البخاري : ا 2/ 747 , صحيح مسلم : 3/ 1160 )

اورہم تاجروں سے غلے کو اٹکل سے خریدتے تھے تو رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے ہمیں اس کو بیچنے سے منع فرمایایہاں تک کہ ہم اسے اس کی جگہ سے منتقل کردیں ۔

اور علامہ سید سابق رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ وليس هذا خاصا بالطعام بل يشتمل الطعام وغيره‘‘ (فقہ السنہ :۳؍۲۴۰)

یہ صرف غلے کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ غلہ اور اس کے علاوہ دوسری چیزوں کو بھی شامل ہے ۔

معلوم ہوا کہ کسی بھی سامان کو اپنے قبضہ میں لینے سے پہلے بیچنا درست نہیں ہے ۔

5۔بحریہ ٹاون کی ممبر شپ ایک جوا ہے،جس کے ذریعے پلاٹ حاصل کرنے کی لوگ کوشش کر رہے ہیں،اب بعض تو اس کو حاصل کر لیں گے اور بعض اس سے محروم رہ جائیں گے،اور یہ صورت جوا میں ہی ہوتی ہے۔پھر ان کا صرف دس ہزار روپے واپس کرنا ،اور باقی واپس نہ کرناسراسر ظلم اور زیادتی ہے،وہ لوگوں کا مال ناجائز اور حرام طریقے سے کھا رہے ہیں۔(اگر وہ لوگوں کو فری ممبر شپ دیتے تو جائز تھا۔)اسی طرح پلاٹ کے لئے ممبر شب کی شرط لگانا ایک بیع میں دو بیعوں کی شکل ہے ،جو شرعا حرام ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ