سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کعبہ کے بیت اللہ ہونے کی وجہ تسمیہ

  • 9212
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-23
  • مشاہدات : 1560

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کعبہ کو "بیت اللہ الحرام" کے نام سے کیوں موسوم کیا گیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کعبہ کو بیت اللہ کے نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ اللہ عزوجل کی تعظیم کی جگہ ہے۔ لوگ ہر جگہ سے قصد کر کے یہاں آتے ہیں تاکہ فریضہ حج ادا کر سکیں۔ دنیا بھر کے لوگ نماز میں منہ بھی اسی کی طرف کرتے ہیں تاکہ صحت نماز کی شرطوں میں سے ایک اہم شرط کو پورا کر سکیں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمِن حَيثُ خَرَ‌جتَ فَوَلِّ وَجهَكَ شَطرَ‌ المَسجِدِ الحَر‌امِ ۚ وَحَيثُ ما كُنتُم فَوَلّوا وُجوهَكُم شَطرَ‌هُ...١٥٠... سورة البقرة

"اور (اے پیغمبر!) جہاں سے نکلیں مسجد محترم کی طرف منہ (کر کے نماز پڑھا) کریں اور مسلمانوں تم جہاں ہوا کرو (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔"

اس گھر کی تشریف ، تعظیم اور تکریم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کی طرف نسبت کی ہے، اللہ تعالیٰ کے پاک نام کی طرف جو چیزیں مضاف ہیں ان کی دو قسمیں ہیں (1) یا تو وہ صفات باری تعالیٰ ہیں مثلا سمع، بصر، علم، قدرت اور کلام اور (2) یا وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات ہیں اور عزت کی وجہ سے انہیں اللہ کے پاک نام کی طرف منسوب کیا گیا مثلا ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَطَهِّر‌ بَيتِىَ لِلطّائِفينَ ...٢٦... سورة الحج

"اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے پاک (صاف رکھا) کرو۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ