سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
تاخیر کی صورت میں شب بسر کرنا واجب ہے اور۔۔۔
  • 9169
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 761

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو عید کے دو دن رہے اور تیسرے دن (تیرھویں) کی رات بھی گزارے تو کیا اس کے لیے ناگریز حالات میں طلوع فجر یا طلوع آفتاب کے بعد رمی کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص منیٰ ہی میں رہے حتیٰ کہ تیرھویں کی رات آ جائے تو اس کے لیے لازم ہے کہ منیٰ ہی میں رات بسر کرے اور پھر زوال کے بعد رمی کرے، پہلے دو دنوں کی طرح اس کے لیے تیرھویں کے دن بھی زوال سے پہلے رمی جائز نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرھویں کا دن بھی منیٰ میں بسر فرمایا تھا اور اس دن بھی آپ نے زوال کے بعد ہی رمی کی تھی اور آپ نے فرمایا:

(خذوا عني مناسككم) (صحيح مسلم ‘ الحج‘ باب استحباب رمي جمرة العقبة...الخ‘ ح: 1297 والسنن الكبري للبيهقي: 5/125واللفظ له)

"مجھ سے مناسک حج سیکھ لو۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

تبصرے