السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اس سال حج کرتے ہوئے عرفہ کے بعد جب میں مزدلفہ میں گیا اور وہاں رات بسر کی تو میں مشعر حرام کے پاس جانا بھول گیا تو کیا اس کی وجہ سے مجھے گناہ ہو گا؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب آپ نے مزدلفہ میں کسی بھی جگہ رات گزار لی تو آپ پر کوئی گناہ نہیں اور مشعر حرام نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشعر حرام میں وقوف کیا اور فرمایا:
(وقفت هاهنا وعرفة كلها موقف) (صحيح مسلم‘ الحج‘ باب ما جاء ان عرفة كلها موقف‘ ح: 149/1218)
"میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن سارا مزدلفہ موقف ہے۔"
لہذا آپ مزدلفہ میں جہاد بھی وقوف کر لیں اور رات بسر کر لیں کافی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ مشعر تک پہنچنے کے لیے تکلف نہ کرے اور مشقت نہ اٹھائے بلکہ وہ جہاں بھی ہو وہاں وقوف کر لے اور جب نماز فجر ادا کر لے تو اللہ عزوجل سے دعا کرے اور پھر منیٰ روانہ ہو جائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب