سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

سعی، طواف سے پہلے جائز ہے
  • 9107
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 786

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے یہ سنا کہ سعی طواف سے پہلے بھی جائز ہے تو اس نے سعی کر لی اور پھر بارہ یا تیرہ تاریخ کو طواف کیا تو اسے بتایا گیا کہ اس جواز کا تعلق صرف عید کے دن کے ساتھ ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بات یہ ہے کہ عید اور غیر عید کے دن میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ سعی طواف سے پہلے جائز ہے، لہذا اس حدیث کے عموم کے پیش نظر یہ عید کے دن کے بعد جائز ہے کہ جب ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی ہے، تو آپ نے فرمایا:

(لا حرج) (سنن ابي داود‘ المناسك‘ باب فيمن قدم شيئا قبل شئيء في حجة‘ ح: 2015)

"کوئی حرج نہیں"

لہذا جب یہ حدیث عام ہے تو پھر اس اعبار سے کوئی فرق نہیں کہ یہ سعی عید کے دن کی جائے یا اس کے بعد۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

تبصرے