سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

طواف سے پہلے سعی

  • 9105
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-31
  • مشاہدات : 364

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حج یا عمرہ میں طواف سے پہلے سعی کرنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنت یہ ہے کہ پہلے طواف کیا جائے اور پھر اس کے بعد سعی، لیکن اگر کوئی شخص جہالت کی وجہ سے طواف سے پہلے سعی کر لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ حدیث سے ثابت ہے کہ جب ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی ہے تو آپ نے فرمایا:

(لا حرج) (سنن ابي داود‘ المناسك‘ باب فيمن قدم شيئا قبل شئيء في حجة‘ ح: 2015)

"کوئی حرج نہیں۔"

اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی پہلے سعی کرے تو وہ ہو جائے گی، لیکن سنت یہ ہے کہ پہلے طواف کرے اور پھر سعی، عمرہ ہو یا حج دونوں میں سنت یہی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ