السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں مکہ مکرمہ ہی میں تھی کہ مجھے ایک عزیزہ کی وفات کی خبر پہنچی تو میں نے اس کی طرف سے نیت کر کے طواف کیا تو کیا یہ جائز ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہاں یہ جائز ہے کہ آپ طواف کریں اور اس کا ثواب جس مسلمان کو چاہیں بخش دیں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب میں یہی مشہور قول ہے کہ مسلمان جو بھی نیکی کرے اور اس کا ثواب جس زندہ یا مردہ مسلمان کو بخش دے تو وہ اسے نفع دیتا ہے خواہ یہ نیکی محض بدنی عمل ہو جیسے نماز و طواف یا محض مالی ہو مثلا صدقہ، یا مالی و بدنی ہو مثلا قربانی وغیرہ، لیکن معلوم ہونا چاہیے کہ انسان کے لیے افضل یہ ہے کہ تمام اعمال صالحہ کو اپنی طرف سے ادا کرے اور جس مسلمان کے لیے چاہے دعا کر دے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی رہنمائی فرمائی ہے جیسا کہ آپ کا ارشاد ہے:
(اذا مات الاسنان انقطع عنه عمله الا من ثلاثة: الا من صدقة جارية‘ او علم ينفع به‘ او والد صالح يدعو له) (صحيح مسلم‘ الوصية‘ باب ما يحلق الانسان من الثواب بعد وفاته‘ ح: 1631)
"جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے تمام اعمال اس سے منقطع ہو جاتے ہیں مگر یہ تین اعمال منقطع نہیں ہوتے (1) صدقہ جاریہ (2) منفعت بخش علم اور (3) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب