السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی نے حج کیا اور رات کو طواف وداع کیا لیکن طواف کے بعد اس کے لیے مکہ سے خروج ممکن نہ ہوا لہذا اس نے صبح تک مکہ ہی میں قیام کیا اور پھر سفر کیا تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حکم شریعت یہ ہے کہ حاجی طواف وداع اس وقت کرے جب وہ مکہ سے رخصت ہو رہا ہو کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی متفق علیہ حدیث میں ہے:
(امر الناس ان يكون اخر عهدهم بالبيت الا انه خفف عن الحائض) (صحيح البخاري‘ الحج‘ باب طواف الوداع‘ ح: 1755 وصحيح مسلم‘ الحج‘ باب وجوب طواف الوداع..الخ‘ ح: 1328)
"لوگوں کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ سفر سے قبل آخری لمحات بیت اللہ میں گزاریں ہاں البتہ حائضہ عورت کے لیے تخفیف (رخصت) ہے۔"
اس شخص نے رات کو اگر اس نیت سے طواف کیا تھا کہ طواف کے بعد خروج کر جانا ہے لیکن صبح تک کروج ممکن نہ ہوا تو اس کے ذمہ کچھ لازم نہیں، ہاں البتہ اگر وہ دوبارہ طواف کرے تو اس میں زیادہ احتیاط ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب