السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا اس عورت کے لیے جو فرض حج ادا کر رہی ہو ہجوم وغیرہ کی وجہ سے رمی جمرات میں وکالت جائز ہے یا اسے خود ہی رمی کرنا پڑے گی؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
رمی جمرات کے پاس رش کی وجہ سے جائز ہے کہ عورت کسی کو اپنا وکیل مقرر کر دے خواہ اس کا حج فرض ہی کیوں نہ ہو۔ عورت مرض، کمزوری، حمل کی حفاظت جب کہ وہ حاملہ ہو نیز عزت حرمت کی حفاظت کی وجہ سے کسی کو اپنا وکیل مقرر کر سکتی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب