سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

عمرہ ادا کرنے سے قبل حیض شروع ہو گیا۔۔۔

  • 9052
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-30
  • مشاہدات : 555

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت عمرے کا احرام باندھ کر آئی اور مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد اسے ایام شروع ہو گئے، مگر اس کا محرم فوری سفر کرنے کے لیے مجبور و ناچار ہے اور مکہ میں اس کا کوئی محرم بھی نہیں تو اس عورت کے لیے کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر امر واقع اسی طرح ہے کہ حالت احرام میں طواف سے قبل حیض شروع ہو گیا اور اس کا محرم فوری سفر کے لیے مجبور و ناچار ہے اور مکہ میں اس کا شوہر یا کوئی محرم نہیں تو اس حالت میں ضرورت کے باعث دخول مسجد اور طواف کے لیے حیض سے طہارت کی شرط اس سے ساقط ہو جائے گی۔ لہذا اسے چاہیے کہ لنگوٹ باندھ کر طواف اور سعی کر لے اور اگر قرب مسافت کی وجہ سے اس کے لیے یہ بہ آسانی ممکن ہو کہ سفر کر لے اور طہارت کے فورا بعد اپنے شوہر یا کسی محرم کے ساتھ واپس آ کر حالت طہارت میں عمرہ کے لیے طواف کرے تو یہ زیادہ بہتر ہے، ورنہ جو پہلے حکم بیان کیا گیا ہے اسی پر عمل کر سکتی ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يُر‌يدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ‌ وَلا يُر‌يدُ بِكُمُ العُسرَ‌...١٨٥... سورةالبقرة

"اللہ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔"

اور فرمایا:

﴿لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلّا وُسعَها...٢٨٦... سورة البقرة

"اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔"

اور فرمایا:

﴿وَما جَعَلَ عَلَيكُم فِى الدّينِ مِن حَرَ‌جٍ...٧٨... سورة الحج

"اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی۔"

اور فرمایا:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا استَطَعتُم...١٦﴾... سورة التغابن

"سو جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔"

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(واذا امرتكم بشئي فاتوا منه ما استطعتم) (صحيح البخاري‘ الاعتصام بالكتاب والسنة‘ باب اقتداء بسنن رسول الله صلي الله عليه وسلم‘ ح: 6288 وصحيح مسلم‘ الحج‘ باب فرض الحج مرة...الخ‘ ح: 1337)

"میں جب تمہیں کوئی حکم دوں تو مقدور بھر اس کی اطاعت بجا لاؤ۔"

علاوہ ازیں دیگر بہت نصوص بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں آسانی ہے، تنگی نہیں۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اہل علم کی ایک جماعت نے بھی اس کے مطابق فتویٰ دیا ہے، جن میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور آپ کے شاگرد رشید علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ