سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

طواف افاضہ سے قبل بوسہ کی وجہ سے انزال

  • 9038
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-30
  • مشاہدات : 550

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص ایک ممنوع کام میں مبتلا ہو گیا اور وہ ہے بیوی کو بوسہ دینا اور شہوت کے ساتھ انزال ہونا اور یہ جمرہ عقبہ کی رمی اور حلق کے بعد مگر فواط افاضہ سے قبل ہوا جب کہ اس کی بیوی حج نہیں کر رہی تھی تو اس صورت میں اس پر کیا واجب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جس مسلمان نے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھا ہو تو اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ کوئی ایسا کام کرے جس سے اس کا احرام خراب ہو جائے یا عمل ناقص ہو جائے۔ جس نے حج کا احرام باندھا تو اس کے لیے بوسہ حرام ہے، حتیٰ کہ وہ مکمل طور پر حلال ہو جائے یعنی جمرہ عقبہ کو رمی کر لے، بال منڈوا یا کٹوا لے، طواف افاضہ کرے، اگر اس کے ذمہ سعی ہو تو سعی بھی کر لے کیونکہ ان تمام امور کی تکمیل سے قبل وہ حالت احرام ہی میں ہوتا ہے اور اس حالت میں اس کے لیے عورتیں حرام ہیں۔ تحلل اول کے بعد اگر بوسہ لے اور اسے انزال ہو جائے تو اس کا حج فاسد نہیں ہو گا، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی مانگے، آئندہ اس طرح کا کام نہ کرے اور اس کے فدیہ کے طور پر ایک ایسی بکری ذبح کر دے جس کی قربانی جائز ہے اور اس کے گوشت کو حرم مکہ کے فقیروں میں تقسیم کر دے اور جس قدر جلد ممکن ہو یہ فدیہ ادا کر دینا چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ