سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

حائضہ نماز کے بغیر احرام باندھ لے

  • 8998
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-25
  • مشاہدات : 253

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حائضہ عورت احرام کی دو رکعتیں کس طرح پڑھے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حائضہ عورت احرام کی دو رکعتیں کس طرح پڑھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حائضہ عورت احرام کی دو رکعتیں نہ پڑھے بلکہ وہ نماز کے بغیر ہی  احرام باندھ لے۔ احرام کی دو رکعتیں جمہور کے نزدیک سنت ہیں۔ بعض اہل علم ان کو مستحب بھی نہیں سمجھتے کیونکہ ان کے بارے میں کوئی مخصوص چیز وارد نہیں ہے جبکہ جمہور انہیں مستحب قرار دیتے ہیں کیونکہ بعض احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جل و علا فرماتا ہے:

(صل في هذا الوادي المبارك‘ وقل: عمرة في حجة) (صحيح البخاري‘ الحج‘ باب قول النبي صلي الله عليه وسلم العقيق واد مبارك‘ ح: 1534)

"اس وادی مبارک میں نماز پڑھ لو اور کہو عمرہ حج میں داخل ہے"

وادی سے مراد وادی عقیق ہے اور حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔ ایک صحابی سے یہ بھی ثابت ہے کہ انہوں نے نماز پڑھ کر احرام باندھا، لہذا جمہور نے اسے مستحب قرار دیا ہے کہ نماز کے بعد احرام باندھا جائے نماز خواہ فرض ہو یا نفل، یعنی وضو کر کے دو رکعتیں پڑھ لے۔ حیض اور نفاس والی عورتیں چونکہ نماز نہیں پڑھ سکتیں اس لیے وہ نماز کے بغیر ہی احرام باندھ لیں، ان کے لیے ان دو رکعتوں کی قضا بھی لازم نہیں۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ