سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

محرم کا جوتے یا جرابیں پہننا

  • 8991
  • تاریخ اشاعت : 2013-12-25
  • مشاہدات : 245

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر محرم مرد یا عورت جاتے یا جرابیں جہالت کی وجہ سے یا جانتے ہوئے یا بھول کر پہن لے تو کیا اس سے احرام باطل ہو جائے گا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر محرم مرد یا عورت جاتے یا جرابیں جہالت کی وجہ سے یا جانتے ہوئے یا بھول کر پہن لے تو کیا اس سے احرام باطل ہو جائے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مرد کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ حالت احرام میں جوتے استعمال کرے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(ليحرم احدكم في ازار ورداء و نعلين) (تلخيص الحبير: 2/237)

"محرم کو چاہیے کہ وہ چادر، تہبند اور جوتوں میں احرام باندھے۔"

لہذا افضل یہ ہے کہ احرام میں جوتے استعمال کئے جائیں تاکہ محرم کانٹوں، گرمی اور سردی وغیرہ سے بچ سکے، اگر کوئی احرام میں جوتے استعمال نہ کرے تو پھر بھی کوئی حرج نہیں، اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے بھی استعمال کر سکتا ہے لیکن اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ وہ ان کو کاٹے یا نہ کاٹے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہہہے کہ آپ نے فرمایا:

( من لم  يجد نعلين فليلبس خفين‘ وليقطعهما اسفل من الكعبين) (صحيح البخاري‘ الحج‘ باب ما لا يلبس المحرم...الخ‘ ح: 1542 وصحيح مسلم‘ الحج‘ باب ما يباح للمحرم بحج او عمرة...الخ‘ ح: 1177)

"جوتے شخص نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور انہیں دونوں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ ےےلے۔"

لیکن یہ بھی حدیث سے ثابت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے آپ نے حکم دیا کہ جس کے پاس جوتے نہ ہوں، وہ موزے پہن لے اور اس موقع پر آپ نے انہیں کاٹنے کا حکم نہیں دیا، اس وجہ سے اس مسئلہ میں اختلاف ہے۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ پہلا حکم منسوخ ہے، لہذا محرم موزوں کو کاٹنے کے بغیر استعمال کر سکتا ہے جبکہ بعض دیگر علماء کا یہ کہنا ہے کہ پہلا حکم منسوخ تو نہیں ہے، لیکن کاٹنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، کیونکہ عرفات میں آپ نے اس سے سکوت فرمایا۔ زیادہ راجح بات ان شاءاللہ یہ ہے کہ کاٹنے کا حکم منسوخ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا تو اس میں دیہاتی اور شہری علاقوں کے لوگوں کا ایک جمغفیر موجود تھا جو کہ مدینہ میں اس وقت موجود نہ تھا جب آپ نے انہیں کاٹنے کا حکم دیا تھا۔ لہذا اگر کاٹنا واجب یا مشروع ہوتا تو آپ اسے امت کے اس جم غفیر کے سامنے جرور بیان فرما دیتے، لیکن جب آپ نے عرفات میں اس سکوت فرمایا تو معلوم ہوا کہ یہ حکم منسوخ اور اللہ تعالیٰ نے کانٹے کے حکم سے درگزر کرتے ہوئے اسے معاف فرما دیا ہے کیونکہ کاٹنے کی صورت میں موزے خراب ہو جاتے ہیں۔ واللہ اعلم

عورت کے موزے یا جرابیں پہننے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ عورت تو سراپا پردہ ہے، ہاں البتہ اس کے لیے دو چیزون یعنی نقاب اور دستانوں کے استعمال کی ممانعت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

(لا تسنتقب المحرمة ولا تلبس القفازين) (صحيح البخاري‘ جزاء الصيد‘ باب ما ينهي من الطيب ...الخ‘ ح: 1838)

"محرمہ عورت نقاب اور دستانے استعمال نہ کرے۔"

نقاب سے مراد وہ چیز جو چہرے کو چھپانے کے لیے بنائی گئی ہو مثلا برقع وغیرہ، لہذا اسے حالت احرام میں استعمال نہ کرے، ہاں البتہ اجنبی مردوں کی موجودگی میں نقاب کے سوا کسی اور چیز سے اپنے چہرے کو ڈھانپ لے اور جب مردوں سے دور ہو تو پھر اپنے چہرے کو ننگا کر لے۔ عورت کے لیے چہرے پر نقاب اور برقع ڈالنا جائز نہیں اور نہ اس کے لیے ہاتھوں پر دستانے استعمال کرنا جائز ہے۔ ہاں البتہ کسی اور چیز سے اپنے ہاتھون کو ڈھانپ سکتی ہے۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ